ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب: درمیانی طاقتوں کا نیا عروج


دنیا کی جغرافیائی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں عالمی طاقت کا تصور صرف امریکہ، چین اور روس جیسی بڑی طاقتوں تک محدود نہیں رہا۔ علاقائی اور درمیانی درجے کی طاقتیں بھی اب اپنی سلامتی، معاشی مفادات اور تزویراتی ترجیحات کے تحفظ کے لیے ایسے انتظامات تشکیل دے رہی ہیں جن میں کسی ایک سپر پاور کی سکیورٹی ضمانت پر مکمل انحصار ضروری نہ ہو۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ میں ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ اسی بدلتی ہوئی عالمی سیاست کی ایک اہم مثال ہے۔

7 اگست 2026 کو مکہ میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور ہوگا۔ پاکستانی اور ترک حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔ اس لیے اسے فوری طور پر ایران مخالف یا امریکہ مخالف اتحاد قرار دینا اس کی اصل جغرافیائی اہمیت کو محدود کردے گا۔

زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا درمیانی طاقتیں اب اپنی سلامتی کا ڈھانچہ خود تشکیل دینے کی طرف بڑھ رہی ہیں؟

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یہ تعاون بھی اچانک پیدا نہیں ہوا۔ دونوں ممالک نے ستمبر 2025 میں باہمی تزویراتی دفاعی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ترکیہ کی شمولیت اس تعاون کو مزید وسیع جغرافیائی اور عسکری اہمیت دیتی ہے۔

تینوں ممالک کی اپنی اپنی طاقت ہے۔ پاکستان ایک اہم عسکری اور جوہری طاقت ہے، سعودی عرب خلیج اور عرب دنیا میں معاشی، توانائی اور سیاسی وزن رکھتا ہے، جبکہ ترکیہ نیٹو کا رکن ہونے کے ساتھ ایک مضبوط دفاعی صنعت اور اہم علاقائی فوجی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر یہ تینوں اپنی صلاحیتوں کو مربوط انداز میں استعمال کرتے ہیں تو تعاون دفاعی معاہدے سے آگے بڑھ کر مشترکہ تربیت، انٹیلی جنس، دفاعی ٹیکنالوجی، عسکری پیداوار اور ہنگامی ردِعمل تک پھیل سکتا ہے۔

اس پیش رفت کو سمجھنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کو بھی دیکھنا ہوگا۔ کئی دہائیوں تک خلیجی ریاستوں کی سلامتی میں امریکی فوجی موجودگی اور واشنگٹن کے ساتھ دفاعی تعلقات مرکزی حیثیت رکھتے رہے۔ تاہم حالیہ علاقائی تنازعات نے یہ احساس مضبوط کیا ہے کہ کسی بھی ریاست کے لیے صرف بیرونی طاقت پر انحصار خطرناک ہوسکتا ہے۔ نتیجتاً علاقائی ممالک اپنے دفاعی شراکت داروں اور تزویراتی روابط کو متنوع بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ سعودی عرب امریکہ سے دور ہوگیا ہے، ترکیہ نیٹو سے الگ ہورہا ہے یا پاکستان کسی نئے عالمی بلاک میں شامل ہوگیا ہے۔ حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ تینوں ممالک اب بھی مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اصل تبدیلی شاید کسی ایک اتحاد سے نکل کر دوسرے اتحاد میں جانے کے بجائے متعدد شراکت داریوں کو بیک وقت استعمال کرنے میں ہے۔

یہی درمیانی طاقتوں کی نئی حکمت عملی ہے: کسی ایک طاقت کے سائے میں مکمل طور پر کھڑے ہونے کے بجائے اپنے لیے زیادہ سے زیادہ راستے کھلے رکھنا۔

ترکیہ پہلے ہی یورپ، روس، خلیج، وسطی ایشیا اور ایشیا کے ساتھ بیک وقت تعلقات آگے بڑھا رہا ہے۔ سعودی عرب بھی اپنی خارجہ پالیسی کو صرف واشنگٹن تک محدود رکھنے کے بجائے چین، روس، ترکیہ اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ روابط بڑھا رہا ہے۔ پاکستان بھی چین، خلیجی ریاستوں، ترکیہ، امریکہ اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ متنوع تعلقات برقرار رکھنے میں کامیاب ہورہا ہے اسی لیے اس معاہدے کو ’’اسلامی نیٹو‘‘ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ تینوں ممالک کے درمیان ابھی کسی مستقل مشترکہ فوجی کمان یا نیٹو جیسے ادارہ جاتی ڈھانچے کا وجود نہیں۔ لیکن اجتماعی دفاع کا اصول یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ علاقائی ممالک اپنی سلامتی کے بارے میں زیادہ خودمختار سوچ اختیار کررہے ہیں۔

اس تعاون کا ایک اہم معاشی اور تکنیکی پہلو بھی ہے۔ جدید جنگ صرف فوجی افرادی قوت سے نہیں لڑی جاتی۔ ڈرونز، میزائل، سائبر سکیورٹی، فضائی دفاع، مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ نگرانی اور مقامی دفاعی صنعتیں بھی قومی طاقت کا حصہ بن چکی ہیں۔ پاکستان کی عسکری صلاحیت، ترکیہ کی تیزی سے ترقی کرتی دفاعی ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کی سرمایہ کاری کی قوت اگر ایک مربوط فریم ورک میں آتی ہے تو یہ شراکت داری مستقبل میں ایک مضبوط دفاعی صنعتی تعاون کی بنیاد بن سکتی ہے۔

تاہم اس تعاون کے سامنے چیلنجز بھی موجود ہیں۔ تینوں ممالک کی سکیورٹی ترجیحات مکمل طور پر یکساں نہیں۔ پاکستان کی توجہ جنوبی ایشیا پر، سعودی عرب کی خلیج اور مشرقِ وسطیٰ پر، جبکہ ترکیہ کے مفادات مشرقی بحیرہ روم، شام، عراق، قفقاز اور بحیرہ اسود تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس لیے اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تینوں ممالک مشترکہ خطرات کی کتنی واضح تعریف کرتے ہیں اور عملی تعاون کو کس حد تک ادارہ جاتی شکل دیتے ہیں۔

اس کے باوجود مکہ کا معاہدہ ایک بڑے عالمی رجحان کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے۔ دنیا اب صرف سپر پاورز کے درمیان مقابلے سے تشکیل نہیں پا رہی۔ بھارت، ترکیہ، سعودی عرب، ایران، برازیل، انڈونیشیا اور دیگر علاقائی طاقتیں بھی اپنے اپنے علاقوں میں زیادہ فعال کردار ادا کررہی ہیں۔

شاید آنے والی دنیا کا سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ کون سا ملک امریکہ کے ساتھ ہے اور کون چین کے ساتھ، بلکہ یہ ہوگا کہ درمیانی طاقتیں اپنی اجتماعی طاقت کو کس حد تک استعمال کرکے اپنے لیے خودمختار سکیورٹی نظام تشکیل دے سکتی ہیں۔

مکہ کا معاہدہ اسی ممکنہ تبدیلی کی ایک ابتدائی علامت ہے: ایسی دنیا جہاں درمیانی طاقتیں صرف بڑی طاقتوں کی ضمانت کی منتظر نہیں رہتیں، بلکہ اپنی سلامتی، اپنے مفادات اور اپنے خطے کے مستقبل میں اپنا کردار خود متعین کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں