پاکستان میں مہنگائی سے پسے ہوئے عوام پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافے کے ذریعے ایک اور مالی بوجھ ڈالنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ایران اور امریکا کے مابین حالیہ پیدا ہونے والی شدید جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے نتیجے میں بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل (Crude Oil) کے نرخ تیزی سے اوپر چلے گئے ہیں، جس کے براہِ راست اثرات ملکی معیشت پر پڑ رہے ہیں۔ اوگرا اور دیگر ذرائع کے مطابق، حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا نیا جائزہ لیا جا رہا ہے جس کے تحت ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 40 سے 50 روپے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 10 سے 15 روپے فی لیٹر تک کے نمایاں اضافے کی قوی توقع کی جا رہی ہے اور ان نئی قیمتوں کا نفاذ 18 جولائی سے متوقع ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کا بحران پیدا ہونے کے بعد نجی ٹی وی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت اس اچانک اور بڑے اضافے سے عوام کو بچانے اور مہنگائی کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی (Petroleum Levy) میں کچھ کمی کرنے کے مختلف آپشنز پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ تاہم، قیمتوں میں متوقع اضافے کی خبریں سامنے آتے ہی ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے نیشنل کمیٹی آن مانیٹرنگ اینڈ کوآرڈینیشن نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) کو براہِ راست اور سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ مارکیٹ میں تیل کی بلا تعطل فراہمی کو ہر صورت یقینی بنائیں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں۔
اقتصادی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ عالمی جیو پولیٹیکل صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعات کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی اتار چڑھاؤ پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے ہمیشہ سے ایک بہت بڑا چیلنج رہا ہے۔ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف حکومتی اداروں کا متحرک ہونا جہاں ایک بروقت اور خوش آئند اقدام ہے، وہیں ملکی معیشت کے طویل المدتی استحکام کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع (Alternative Energy) کو فروغ دینا اور عالمی مارکیٹ کے جھٹکوں سے بچنے کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی مرتب کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ ممکنہ اضافہ اسی شرح سے لاگو ہوتا ہے، تو اس سے ملک میں مال برداری کے اخراجات بڑھیں گے جس کا اثر براہِ راست عام اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر پڑے گا۔
