آزادیٔ صحافت یا بیانیے کی جنگ؟ پاکستان پر دوہرے معیار کیوں؟

آزادیٔ صحافت کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی قدر ہے، مگر اس آزادی کا تصور کبھی بھی ریاستی خودمختاری، قومی سلامتی اور قانونی ضابطوں سے بالاتر نہیں رہا۔ دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں غیر ملکی صحافیوں کو بغیر کسی ضابطے، اجازت یا نگرانی کے حساس علاقوں، فوجی تنصیبات یا سرحدی علاقوں تک مکمل رسائی حاصل ہو۔ اس حقیقت کے باوجود جب پاکستان قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے لیے قواعد و ضوابط نافذ کرتا ہے تو اسے فوراً آزادیٔ صحافت پر قدغن قرار دے دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو اقدامات دنیا کے دیگر ممالک میں معمول کی انتظامی روایت سمجھے جاتے ہیں، وہی پاکستان میں متنازع کیوں بنا دیے جاتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ریاستی خودمختاری کا اصول بین الاقوامی نظام کی بنیاد ہے۔ ہر خودمختار ریاست کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات، سلامتی اور داخلی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر ملکی صحافیوں کی رجسٹریشن، منظوری، نقل و حرکت اور حساس مقامات تک رسائی کے لیے قواعد مرتب کرے۔ یہی اصول امریکہ، برطانیہ، بھارت، اسرائیل اور خلیجی ممالک سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں نافذ العمل ہے۔ ان ممالک میں فوجی اڈوں، سرحدی علاقوں، حساس تنصیبات اور تنازعات سے متاثرہ خطوں میں رپورٹنگ کے لیے خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے، جبکہ بعض مقامات پر مکمل پابندی بھی عائد ہوتی ہے۔ مگر جب پاکستان یہی طرزِ عمل اختیار کرتا ہے تو بین الاقوامی حلقوں میں اسے آزادیٔ اظہار کے خلاف اقدام قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ رویہ خود اس تنقید کی ساکھ پر سوال اٹھاتا ہے۔ اس معاملے کا دوسرا اہم پہلو بین الاقوامی بیانیہ سازی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کے بارے میں شائع ہونے والی متعدد رپورٹس اور تجزیوں پر یہ اعتراض سامنے آتا رہا ہے کہ ان میں دہشت گردی کے خلاف ریاستی اقدامات پر تو تفصیلی تنقید کی جاتی ہے، مگر ان شدت پسند نیٹ ورکس، سرحد پار سہولت کاروں، مالی معاونت کے ذرائع اور بیرونی سرپرستی پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے جنہوں نے پاکستان کو دہائیوں تک دہشت گردی کی آگ میں جھونکے رکھا۔ نتیجتاً عالمی رائے عامہ کے سامنے ایک ایسا تاثر تشکیل پاتا ہے جس میں سکیورٹی اقدامات تو نمایاں دکھائی دیتے ہیں، مگر وہ خطرات اور حقائق پس منظر میں چلے جاتے ہیں جنہوں نے ان اقدامات کو ناگزیر بنایا۔ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال انسانی، معاشی اور عسکری قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں شہریوں، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ ملک میں امن بحال ہو سکے۔ ایسے میں اگر ریاست حساس معلومات، عسکری تنصیبات یا جاری سکیورٹی کارروائیوں کے حوالے سے محتاط پالیسی اختیار کرتی ہے تو اسے غیر معمولی اقدام نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاستی رویہ سمجھا جانا چاہیے۔ دنیا بھر میں قومی سلامتی سے متعلق معلومات کے تحفظ کو قانونی اور اخلاقی جواز حاصل ہے، اور پاکستان اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض بین الاقوامی حلقے پاکستان کے بارے میں خبر یا تجزیہ پیش کرتے وقت ایک ایسا زاویہ اختیار کرتے ہیں جس میں ہر انتظامی اقدام کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر یہی ضابطے کسی مغربی یا دیگر طاقتور ریاست میں نافذ ہوں تو انہیں قومی سلامتی کا لازمی تقاضا قرار دیا جاتا ہے، لیکن پاکستان کے معاملے میں انہیں جمہوری اقدار کے خلاف پیش کیا جاتا ہے۔ اس دوہرے معیار نے نہ صرف بین الاقوامی مباحثے کی غیر جانبداری کو متاثر کیا ہے بلکہ آزادیٔ صحافت کے تصور کو بھی سیاسی مفادات کے تابع کرنے کا تاثر پیدا کیا ہے۔ یہ بھی تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ذمہ دار صحافت صرف معلومات کے حصول کا نام نہیں بلکہ حقائق کے مکمل اور متوازن تناظر کو سامنے لانے کی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر رپورٹنگ میں صرف ریاستی اقدامات کو نمایاں کیا جائے اور دہشت گردی، بیرونی مداخلت، غیر ریاستی عناصر اور سلامتی کو لاحق خطرات کو نظرانداز کر دیا جائے تو ایسی رپورٹنگ مکمل تصویر پیش نہیں کرتی۔ صحافت کی اصل طاقت توازن، سیاق و سباق اور غیر جانب دارانہ تجزیے میں پوشیدہ ہے، نہ کہ منتخب حقائق کے ذریعے مخصوص بیانیہ تشکیل دینے میں۔ پاکستان کو بھی یقیناً ایک آزاد، ذمہ دار اور پیشہ ور صحافت کی ضرورت ہے، کیونکہ مضبوط میڈیا ہی ریاست اور معاشرے کے درمیان اعتماد کو فروغ دیتا ہے۔ تاہم آزادیٔ صحافت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ قومی سلامتی کے تقاضوں کو نظرانداز کر دیا جائے یا دنیا کے ہر ملک کے لیے الگ الگ اصول اختیار کیے جائیں۔ اگر عالمی برادری واقعی آزادیٔ اظہار اور صحافتی آزادی کی علمبردار ہے تو اسے پاکستان سمیت تمام ریاستوں کے لیے ایک ہی معیار اپنانا ہوگا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے بارے میں عالمی مباحثہ جذبات، سیاسی ترجیحات یا یک طرفہ تاثر سازی کے بجائے حقائق، بین الاقوامی اصولوں اور ریاستی خودمختاری کے احترام پر استوار ہو۔ تنقید یقیناً ہونی چاہیے، مگر وہ یکساں اصولوں کے تحت ہو۔ آزادیٔ صحافت کا دفاع اسی وقت معتبر ہوگا جب اس کے ساتھ ریاستی خودمختاری، قومی سلامتی اور حقائق پر مبنی متوازن رپورٹنگ کے اصولوں کا بھی یکساں احترام کیا جائے۔ بصورتِ دیگر یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ مسئلہ آزادیٔ صحافت نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں ایک مخصوص بیانیے کو برقرار رکھنا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں