عوام کے مسائل جوں کے توں مگر حکمرانوں کی شاہ خرچیاں عروج پر!‌

تحریر: عامر علی

سندھ مالی بحران کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے، دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں شاہ خرچیوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ یہ کیسی حکمرانی ہے جہاں عوام کے لیے وسائل کم پڑ جاتے ہیں، مگر حکمرانوں کی آسائشوں کے لیے خزانے کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں؟ کیا یہی عوامی خدمت ہے یا پھر اقتدار کو ذاتی مراعات کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے؟ سندھ حکومت برسوں سے مالی مشکلات کا واویلا کر رہی ہے۔ کبھی وسائل کی کمی کا بہانہ بنایا جاتا ہے، کبھی وفاقی فنڈز میں کمی کا شکوہ کیا جاتا ہے اور کبھی عالمی مالیاتی اداروں سے اربوں روپے کے قرض لے کر مالی بحران پر قابو پانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن ایک سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر یہ قرض عوام کی فلاح کے لیے لیے گئے تھے تو ان کا ثمر عوام کو کیوں نہیں ملا؟ روزنامہ جرأت میں 21 جولائی 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، وزیراعلیٰ ہاؤس، خاص معاونین اور ایڈوائزرز نے مجموعی طور پر غیر ترقیاتی بجٹ کا سو فیصد، یعنی تقریباً ڈیڑھ ارب روپے خرچ کیے، جس میں تنہا مشیروں اور اسپیشل اسسٹنٹس کا حصہ 27 کروڑ 40 لاکھ روپے تھا۔ اسی رپورٹ کے مطابق ارکانِ سندھ اسمبلی پر 3 ارب 44 کروڑ روپے، صوبائی وزراء پر 24 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ وزیراعلیٰ کے ہیلی کاپٹر کے استعمال پر بھی 28 کروڑ روپے صرف کیے گئے۔ سوال یہ ہے کہ جب غیر ترقیاتی بجٹ مکمل طور پر خرچ ہو سکتا ہے تو عوامی فلاح کے منصوبے کیوں نظرانداز ہوئے؟ اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ، بلدیاتی اداروں اور دیگر ترقیاتی شعبوں کے لیے مختص اربوں روپے بروقت خرچ ہی نہ ہو سکے، جس کے باعث یہ فنڈز لیپس ہو گئے۔ یعنی وہ رقم جو اسپتالوں میں دوائیں پہنچا سکتی تھی، اسکولوں میں بنیادی سہولیات فراہم کر سکتی تھی، سڑکوں کی تعمیر، پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری اور شہری مسائل کے حل پر خرچ ہونی چاہیے تھی، وہ عوام تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو گئی۔ آخر کیوں؟ کیا متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے؟ کیا حکومت کو عوامی منصوبوں کی تکمیل میں دلچسپی نہیں تھی؟ یا پھر عوام کی مشکلات کبھی بھی حکمرانوں کی ترجیح ہی نہیں رہیں؟ اگر خزانہ واقعی خالی تھا تو سب سے پہلے حکمرانوں کے غیر ضروری اخراجات کم ہونے چاہییں تھے۔ اگر کفایت شعاری ضروری تھی تو اس کا آغاز وزیراعلیٰ ہاؤس، وزراء، مشیروں، پروٹوکول، سرکاری گاڑیوں، غیر ضروری دوروں اور شاہانہ انتظامی اخراجات سے ہونا چاہیے تھا۔ لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔ عوام کے حصے کا ترقیاتی بجٹ تو لیپس ہو گیا، مگر حکمرانوں کے غیر ترقیاتی اخراجات کا ایک ایک روپیہ خرچ کر دیا گیا۔ یہ صرف مالی بدانتظامی نہیں بلکہ ترجیحات کی کھلی عکاسی ہے۔ سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں آج بھی مریض بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔ سرکاری اسکولوں کی حالت کسی سے پوشیدہ نہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام عوام کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے اور بلدیاتی ادارے وسائل کی کمی کے باعث شہری مسائل حل کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ اگر ان شعبوں کے لیے مختص فنڈز خرچ ہی نہیں ہونے تھے تو پھر بجٹ میں ان کا اعلان کیوں کیا گیا؟ کیا ترقیاتی منصوبے صرف بجٹ تقریروں کی زینت بننے کے لیے ہوتے ہیں؟ کیا عوام کو ہر سال صرف وعدوں اور اعلانات سے بہلایا جاتا رہے گا؟ افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ یہی حکمران عوام کو سادگی، کفایت شعاری اور قربانی کا درس دیتے ہیں۔ مہنگائی برداشت کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، وسائل کی کمی کا رونا روتے ہیں، لیکن اپنی مراعات، پروٹوکول اور شاہانہ اخراجات میں کمی لانے کو تیار نہیں ہوتے۔ آخر قربانی ہمیشہ عوام ہی کیوں دیں؟ کیا اقتدار میں بیٹھے افراد پر کوئی اخلاقی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سندھ کے عوام صرف ٹیکس ہی ادا نہیں کرتے بلکہ ان کے نام پر عالمی اداروں سے قرض بھی لیے جاتے ہیں، جن کی واپسی کا بوجھ بھی بالآخر عوام ہی اٹھاتے ہیں۔ ایسے میں اگر عوامی فلاح کے لیے مختص فنڈز لیپس ہو جائیں اور حکمرانوں کی آسائشوں پر اربوں روپے بے دریغ خرچ کر دیے جائیں تو یہ صرف مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ عوامی اعتماد کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔ جمہوریت کا حسن صرف انتخابات میں نہیں بلکہ جوابدہی میں بھی ہوتا ہے۔ عوام کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ ان کے ٹیکس کا ایک ایک روپیہ کہاں خرچ ہو رہا ہے، ان کے نام پر لیے گئے قرض کن منصوبوں پر لگ رہے ہیں، اور اگر صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور بلدیاتی اداروں کے فنڈز خرچ نہ ہو سکے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سندھ کے عوام صرف سوال نہ کریں بلکہ جواب بھی طلب کریں۔ کیونکہ جب ایک طرف بیمار علاج سے محروم ہو، طالب علم بنیادی سہولیات سے محروم ہو، شہری ٹوٹی سڑکوں، ناقص نکاسیٔ آب اور گندگی کے ڈھیروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوں، اور دوسری طرف حکمرانوں کی شاہ خرچیاں مسلسل بڑھتی جائیں، تو پھر مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ حکمرانی کی ترجیحات کا ہوتا ہے۔ عوام اب یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر کب تک ان کے مسائل جوں کے توں رہیں گے اور حکمرانوں کی شاہ خرچیاں عروج پر رہیں گی؟

اپنا تبصرہ لکھیں