سعید غنی سے سوال: اداروں پر تنقید سے آگے بڑھ کر حکمرانی کی بات کب ہوگی؟

تحریر: علیزہ عارفین

صوبوں کی تشکیل ایک اہم آئینی، سیاسی اور انتظامی معاملہ ہے۔ اس حوالے سے سعید غنی کا یہ کہنا کہ صوبے بننے یا نہ بننے کا فیصلہ آئی ایس پی آر کا کام نہیں، اپنی جگہ ایک سیاسی مؤقف ہے۔ لیکن اس بیان کے بعد ایک بڑا سوال خود سعید غنی اور دیگر سیاسی رہنماؤں سے بھی بنتا ہے: اگر اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہیے تو کیا سیاسی حکومتوں کو بھی اپنی کارکردگی اور حکمرانی کے لیے جواب دہ نہیں ہونا چاہیے؟ آئی ایس پی آر سے صوبوں کے حوالے سے سوال کیا گیا اور انہوں نے اپنا جواب دے دیا۔ اب اصل ذمہ داری سیاسی قیادت کی ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا واضح مؤقف عوام کے سامنے رکھے۔ صوبوں کی تشکیل، انتظامی اصلاحات، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی جیسے معاملات سیاسی قیادت اور پارلیمان کو سنجیدگی سے طے کرنے چاہئیں۔ پاکستان کا اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کون سا ادارہ کیا کہہ رہا ہے۔ اصل مسئلہ خراب طرزِ حکمرانی ہے۔ جہاں عوام کو بنیادی سہولیات کے لیے مشکلات کا سامنا ہو، جہاں انتظامی نظام کمزور ہو، جہاں وسائل کی تقسیم پر سوالات اٹھیں، جہاں شہری مسائل حل نہ ہوں اور جہاں عوام کو اپنے نمائندوں سے جواب نہ ملے، وہاں ہر سیاسی رہنما، ہر ادارے اور ہر ذمہ دار شہری کو آواز اٹھانی چاہیے۔ لیکن احتساب کا اصول سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔ اگر سعید غنی یہ کہتے ہیں کہ آئی ایس پی آر کو یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ صوبے بننے چاہئیں یا نہیں، تو پھر یہ سوال بھی جائز ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنی حکمرانی، انتظامی کارکردگی اور عوامی مسائل کے بارے میں مکمل جواب دہ کیوں نہ ہوں؟ یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہماری سیاسی بحث بار بار فوج اور سیاست کے گرد کیوں گھومنے لگتی ہے۔ جب بھی حکومت، اپوزیشن یا سیاسی رہنما کسی مسئلے پر گفتگو کرتے ہیں اور بحث کا رخ اداروں کی طرف موڑ دیا جاتا ہے تو کیا عوام کے اصل مسائل پسِ پشت نہیں چلے جاتے؟ سعید غنی ماضی میں بھی فوج کے سیاسی کردار کے حوالے سے سخت بیانات دیتے رہے ہیں۔ لیکن اگر سیاسی قیادت واقعی اداروں کی مداخلت کے خلاف اصولی مؤقف رکھتی ہے تو پھر اسی اصول کو ہر معاملے میں یکساں طور پر اپنانا ہوگا۔ نہ کسی ادارے کو سیاسی معاملات میں غیر ضروری کردار ادا کرنا چاہیے اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کو اپنی ناکامیوں کا ملبہ کسی دوسرے ادارے پر ڈال کر اپنی ذمہ داری سے بچنا چاہیے۔ پاکستان کو آج الزام تراشی کی سیاست سے زیادہ اصلاحات کی سیاست کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ صوبائی نظام کیسے بہتر ہوگا؟ انتظامی ڈھانچہ عوام کے قریب کیسے آئے گا؟ بلدیاتی اداروں کو حقیقی اختیارات کیسے ملیں گے؟ وسائل کی منصفانہ تقسیم کیسے ہوگی؟ سرکاری اداروں میں جواب دہی کیسے یقینی بنائی جائے گی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عام شہری کو بہتر حکمرانی کب ملے گی؟ سعید غنی سمیت ہر سیاسی رہنما سے یہ سوال پوچھنا ضروری ہے کہ اگر خراب حکمرانی کے خلاف آواز اٹھانا سب کا حق اور ذمہ داری ہے تو پھر اپنی حکومت کی کارکردگی، کمزوریوں اور انتظامی مسائل پر بھی اسی شدت سے بات کیوں نہ کی جائے؟ فوج کو سیاسی بحث کا مستقل مرکز بنانے کے بجائے سیاسی قیادت کو اپنی توجہ عوامی مسائل اور حکمرانی کی بہتری پر مرکوز کرنی چاہیے۔ اداروں کی حدود کا احترام بھی ضروری ہے، سیاسی حکومتوں کا احتساب بھی ضروری ہے، اور عوامی مفاد کو سیاست سے بالاتر رکھنا بھی ضروری ہے۔ پاکستان کو ایک دوسرے کو الزام دینے والی سیاست نہیں، بلکہ جواب دہ، مؤثر اور عوام دوست نظامِ حکمرانی چاہیے۔ آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ آئی ایس پی آر نے کیا کہا۔ اصل سوال یہ ہے کہ سیاسی قیادت عوام کے لیے کیا کر رہی ہے؟

سعید غنی سے سوال: اداروں پر تنقید سے آگے بڑھ کر حکمرانی کی بات کب ہوگی؟“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ لکھیں