جب اسکول ویران ہوں تو بچوں کا مستقبل بھی اجڑ جاتا ہے

سندھ کے دیہی علاقوں میں آج بھی ہزاروں سرکاری اسکول ایسے ہیں کی عمارتیں تو موجود ہیں، مگر ان میں تعلیم نہیں، خاموشی آباد ہے۔ کہیں ٹوٹی ہوئی دیواریں ہیں، کہیں چھتیں زمین بوس ہو چکی ہیں، کہیں کلاس روم مویشیوں کے باڑے بن چکے ہیں، تو کہیں بچوں کے بجائے جھاڑیاں اگ آئی ہیں۔ سرکاری ریکارڈ میں یہ سب تعلیمی ادارے ہیں، مگر زمینی حقیقت میں یہ ایسے خواب ہیں جو کبھی پورے نہ ہو سکے۔ ان ویران عمارتوں کے درمیان لاکھوں ایسے بچے کھڑے ہیں جن کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے تھی، مگر مجبوری نے انہیں اینٹوں کے بھٹوں، کھیتوں، ورکشاپوں اور مزدوری کی منڈیوں تک پہنچا دیا۔


سندھ میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے *2 کروڑ 62 لاکھ* سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو دنیا میں دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ ان میں سے *74 لاکھ بچے صرف سندھ* سے تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی پاکستان کا ہر تیسرا آؤٹ آف اسکول بچہ سندھ میں رہتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ ان بچوں میں *41 لاکھ سے زائد لڑکیاں* شامل ہیں، جو غربت، سماجی پابندیوں، محفوظ تعلیمی ماحول کی عدم دستیابی اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث تعلیم سے محروم ہیں۔

یہ بحران صرف غربت کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے جاری پالیسی کمزوری، ناقص منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں ناکامی کا مجموعہ ہے۔ سندھ میں تقریباً *41 ہزار سرکاری اسکول* موجود ہیں، لیکن ان میں سے *36 ہزار صرف پرائمری سطح* تک محدود ہیں۔ مڈل اور سیکنڈری اسکولوں کی تعداد بمشکل پانچ ہزار ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تقریباً 27 لاکھ بچے پرائمری میں داخلہ لیتے ہیں، مگر صرف پانچ لاکھ کے قریب سیکنڈری سطح تک پہنچ پاتے ہیں۔ یعنی پانچویں جماعت کے بعد تقریباً 80 فیصد بچے تعلیمی نظام سے باہر ہو جاتے ہیں۔

دیہی سندھ میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ بہت سے دیہات میں پانچویں جماعت کے بعد اگلا اسکول کئی کلومیٹر دور ہوتا ہے۔ محفوظ ٹرانسپورٹ موجود نہیں، سڑکیں خراب ہیں اور والدین خصوصاً اپنی بیٹیوں کو اتنی دور بھیجنے سے گریز کرتے ہیں۔ یوں ہزاروں لڑکیوں کی تعلیم پانچویں جماعت پر آ کر ہمیشہ کے لیے رک جاتی ہے یا ان کی کم عمری میں شادی ہوجاتی ہے۔

اگر کوئی بچہ اسکول پہنچ بھی جائے تو وہاں کا منظر بھی حوصلہ افزا نہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سندھ کے *21 ہزار سے زائد اسکول بجلی سے محروم ہیں۔ 15 ہزار سے زیادہ اسکولوں کے گرد حفاظتی دیوار موجود نہیں، 10 ہزار سے زائد اسکولوں میں صاف پینے کا پانی دستیاب نہیں جبکہ 9 ہزار 404 اسکول ایسے ہیں جہاں قابل استعمال بیت الخلا تک موجود نہیں۔* لاکھوں بچے آج بھی فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ مناسب فرنیچر تک میسر نہیں۔

اسی وجہ سے جہاں معاشی استطاعت موجود ہو، والدین نجی تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ سرکاری اسکول مفت ضرور ہیں، مگر اکثر وہاں بنیادی سہولیات، مسلسل تدریسی عمل، حاضری کا مؤثر نظام اور تعلیمی معیار وہ نہیں جو ایک بچے کے مستقبل کی ضمانت بن سکے۔ دوسری جانب غریب خاندانوں کے پاس یہ انتخاب موجود نہیں ہوتا۔ وہ یا تو اپنے بچوں کو انہی کمزور سرکاری اداروں میں بھیجتے ہیں یا پھر انہیں تعلیم ہی سے محروم کر دیتے ہیں۔

سنہ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق *19 ہزار 808 اسکول متاثر ہوئے* جن میں ہزاروں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے۔ چار برس گزرنے کے باوجود *14 ہزار 343 اسکول اب بھی بحالی کے منتظر ہیں۔* مختلف سرکاری جائزوں کے مطابق تقریباً **پانچ لاکھ بچے** ایسے تھے جو سیلاب کے بعد دوبارہ کبھی اسکول واپس نہ آ سکے۔ ان میں سے بڑی تعداد نے کھیتوں، اینٹوں کے بھٹوں، ورکشاپوں اور دیگر غیر رسمی شعبوں میں مزدوری اختیار کر لی، کیونکہ تعلیم کے دروازے بند ہو چکے تھے اور معاشی مجبوری نے انہیں بچپن سے پہلے بالغ بنا دیا۔ اس تمام صورتحال کا ایک مالیاتی پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ کا سالانہ تعلیمی بجٹ *600 ارب روپے* سے تجاوز کر چکا ہے، مگر اس کا *90 فیصد سے زیادہ حصہ تنخواہوں، پنشن اور انتظامی اخراجات* میں صرف ہو جاتا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں، اسکولوں کی مرمت، نئی عمارتوں، فرنیچر، سائنسی لیبارٹریوں اور بنیادی سہولیات کے لیے انتہائی محدود وسائل بچتے ہیں۔ دوسری جانب سیلاب سے تباہ شدہ اسکولوں کی مکمل بحالی کے لیے تقریباً *450 ارب روپے* درکار ہیں، مگر حالیہ بجٹ میں اس مقصد کے لیے مختص رقم ضرورت کے مقابلے میں نہایت معمولی رہی، جس کے باعث صوبہ اب بھی بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کی معاونت پر انحصار کر رہا ہے۔

تعلیم کے بحران کی شدت صرف عمارتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ *اینول اسٹیٹس آف ایجوکیشن رپورٹ (ASER)* کے مطابق سندھ میں تیسری جماعت کے صرف *8 فیصد بچے*اپنی جماعت کے مطابق ایک سادہ اردو کہانی پڑھ سکتے ہیں، جبکہ صرف *3 فیصد* بنیادی تقسیم کا سوال حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صرف اسکول میں داخلہ کافی نہیں، معیاری تعلیم بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ کے تمام سرکاری اسکول یکساں نہیں۔ کئی اساتذہ انتہائی مشکل حالات میں بھی محدود وسائل کے باوجود اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھا رہے ہیں، اور متعدد اسکول بہتر کارکردگی بھی دکھا رہے ہیں۔ تاہم مجموعی تصویر اب بھی ایک ایسے نظام کی ہے جہاں اچھی مثالیں استثنا ہیں، قاعدہ نہیں۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، مگر سندھ میں یہی بنیاد مسلسل کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ جب ایک بچہ کتاب کے بجائے اوزار اٹھانے پر مجبور ہو، جب اسکول کی جگہ مویشیوں کے باڑے آباد ہوں، جب بچیاں صرف اس لیے تعلیم چھوڑ دیں کہ اسکول میں چار دیواری یا بیت الخلا موجود نہیں، اور جب پانچویں جماعت کے بعد آگے پڑھنے کے لیے کوئی ادارہ ہی نہ ہو، تو یہ صرف تعلیمی بحران نہیں رہتا بلکہ یہ ریاستی ترجیحات، پالیسی پر عمل درآمد اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کا سوال بن جاتا ہے۔

اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نقصان صرف ان لاکھوں بچوں کا نہیں ہوگا جو آج تعلیم سے محروم ہیں، بلکہ اس کی قیمت آنے والے برسوں میں پورا صوبہ معاشی، سیلاب کے بعد بحالی کے لیے مالی وسائل کی کمی کا مؤقف بھی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ سندھ میں متاثرہ آبادی کی بحالی کے لیے *Sindh Peoples Housing for Flood Affectees (SPHF)* پروگرام کے تحت عالمی بینک، وفاقی حکومت اور حکومت سندھ کے اشتراک سے *1.5 سے 2 ارب ڈالر* پر مشتمل بڑا مالیاتی پیکیج مختص کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد *21 لاکھ سے زائد تباہ شدہ گھروں* کی ازسرنو تعمیر اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ رہائش گاہوں کی تعمیر تھا۔ اس کے ساتھ ہی *19 ہزار 808 سیلاب سے متاثرہ سرکاری اسکولوں* کی بحالی کے لیے *200 ملین ڈالر سے زائد* کا علیحدہ فنڈ بھی مختص کیا گیا، جبکہ مختلف اضلاع میں تعلیمی بحالی کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے منصوبے بھی شروع کیے گئے۔ متاثرہ خاندانوں کو مکمل تباہ ہونے والے گھروں کے لیے *3 لاکھ روپے* اور جزوی نقصان پر *50 ہزار روپے* تک براہ راست امداد فراہم کرنے کا نظام متعارف کرایا گیا، جس پر عمل درآمد *SRSO، TRDP اور HANDS* جیسے شراکت دار اداروں کے ذریعے کیا گیا تاکہ شفافیت اور تصدیق کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔ بعد کے مراحل میں صاف پانی اور نکاسی آب کی سہولیات کو بھی بحالی منصوبوں کا حصہ بنایا گیا تاکہ متاثرہ بستیوں کی مجموعی بحالی ممکن ہو سکے۔

تاہم بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ جب گھروں کی تعمیر نو، تعلیمی انفراسٹرکچر اور بحالی کے لیے اربوں ڈالر کے منصوبے، بین الاقوامی معاونت اور متعدد ادارے موجود ہیں تو پھر *چار برس بعد بھی 14 ہزار 343 سرکاری اسکول کیوں بحال نہیں ہو سکے؟* آخر وہ کون سی انتظامی، مالی یا عمل درآمد کی رکاوٹیں ہیں جو لاکھوں بچوں کو اب بھی عارضی خیموں، کھلے آسمان تلے یا مکمل طور پر اسکول سے باہر زندگی گزارنے پر مجبور کیے ہوئے ہیں؟ احتساب کا اصل تقاضا یہی ہے کہ صرف فنڈز کے اعلانات نہیں بلکہ ان کے نتائج بھی عوام کے سامنے رکھے جائیں، کیونکہ کسی بھی بحالی منصوبے کی کامیابی کا پیمانہ کاغذی منظوری نہیں بلکہ وہ بچہ ہے جو دوبارہ محفوظ اور فعال کلاس روم میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کر سکے۔

سماجی اور انسانی ترقی کی صورت میں ادا کرے گا۔ کیونکہ جس معاشرے کے اسکول خاموش ہو جائیں، وہاں مستقبل بھی زیادہ دیر تک روشن نہیں رہتا۔

اپنا تبصرہ لکھیں