تحریر: احمد رضا میمن
سندھ کے گلی کوچوں، بازاروں، بس اڈوں، تعلیمی اداروں کے اطراف اور یہاں تک کہ رہائشی محلوں میں اگر آج بھی گٹکا اور ماوا باآسانی دستیاب ہیں تو ایک سوال ہر باشعور شہری کے ذہن میں جنم لیتا ہے، آخر ذمہ دار کون؟ کیا وہ حکومت جس نے قانون تو بنا دیا مگر اس پر مؤثر عمل درآمد یقینی نہ بنا سکی؟ کیا وہ ادارے جن پر قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ یا پھر ہم سب، جنہوں نے اس خاموش زہر کو معمول کی چیز سمجھ کر نظر انداز کر دیا؟ گٹکا اور ماوا کوئی عام اشیاء نہیں۔ یہ وہ مہلک زہر ہیں جو خاموشی سے نوجوان نسل کی صحت، مستقبل اور زندگی کو نگل رہے ہیں۔ طبی ماہرین برسوں سے خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ ان کا استعمال منہ، زبان، گلے اور جبڑے کے سرطان سمیت کئی خطرناک بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ اس کے باوجود اگر یہ زہر آج بھی ہر دوسری دکان پر فروخت ہو رہا ہے تو یہ صرف ایک صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی عملداری کا بھی امتحان ہے۔ سندھ حکومت نے گٹکا اور ماوا کی تیاری، ذخیرہ، ترسیل اور فروخت کے خلاف قانون سازی کی۔ سخت سزائیں مقرر کی گئیں، کارروائیوں کے اعلانات ہوئے، وقتاً فوقتاً چھاپے بھی مارے گئے، مگر سوال یہ ہے کہ اگر قانون واقعی مؤثر ہے تو بازاروں میں اس کا خوف کیوں دکھائی نہیں دیتا؟ اگر کارروائیاں کامیاب ہیں تو چند روز بعد وہی دکانیں دوبارہ کیسے آباد ہو جاتی ہیں؟ اگر پابندی مکمل ہے تو پھر یہ ممنوعہ اشیاء عوام تک پہنچ کیسے رہی ہیں؟ قانون سازی کسی بھی حکومت کی ذمہ داری ضرور ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ اہم ذمہ داری قانون پر عمل درآمد کرانا ہے۔ محض قانون بنا دینا کافی نہیں ہوتا، اس کے نتائج بھی عوام کو نظر آنے چاہئیں۔ اگر قانون کتابوں میں موجود ہو لیکن بازاروں میں اس کی خلاف ورزی معمول بن جائے تو ایسی قانون سازی اپنی افادیت کھونے لگتی ہے۔ عوام کو قوانین کے الفاظ نہیں بلکہ ان کے عملی اثرات پر یقین ہوتا ہے۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ گٹکا اور ماوا کا سب سے زیادہ شکار نوجوان نسل ہے۔ ایک ایسا نوجوان جو تعلیم حاصل کر رہا ہے، روزگار کی تلاش میں ہے یا اپنے مستقبل کے خواب دیکھ رہا ہے، وہ چند روپوں میں ایسا زہر خرید لیتا ہے جو آہستہ آہستہ اس کی صحت چھین لیتا ہے۔ بعد ازاں جب وہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو نہ صرف اس کی زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ پورا خاندان ذہنی، جسمانی اور مالی اذیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ سرکاری اسپتالوں کے کینسر وارڈ اس تلخ حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ مسئلہ محض اعداد و شمار کا نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کا ہے۔ ایک مریض کے علاج پر لاکھوں روپے خرچ ہو سکتے ہیں، مگر اگر بیماری کی بنیادی وجہ پر قابو نہ پایا جائے تو علاج کا بوجھ بھی بڑھتا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کی تعداد بھی۔ عدالتیں بھی مختلف مواقع پر اس معاملے پر سخت ریمارکس دے چکی ہیں اور متعلقہ اداروں کو مؤثر کارروائیوں کی ہدایت کر چکی ہیں۔ اس کے باوجود اگر زمینی صورت حال میں خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آتی تو عوام کے ذہن میں سوالات پیدا ہونا فطری امر ہے۔ آخر وہ کون سی رکاوٹیں ہیں جو اس غیر قانونی کاروبار کے مکمل خاتمے میں حائل ہیں؟ کیا نگرانی کے نظام میں خامیاں ہیں؟ کیا قانون پر عمل درآمد مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے؟ یا پھر متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطے کا فقدان ہے؟ ان سوالات کے جوابات عوام کا حق ہیں۔ اس مسئلے کو صرف حکومت یا قانون نافذ کرنے والے اداروں تک محدود کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس زہر سے دور رکھیں، تعلیمی اداروں کو آگاہی مہمات چلانی چاہئیں، میڈیا کو مسلسل اس مسئلے کو اجاگر کرنا چاہیے اور معاشرے کے ہر فرد کو اس لعنت کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ قانون نافذ کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس سے پہلو تہی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اگر سندھ میں گٹکا اور ماوا پر پابندی واقعی مؤثر بنانی ہے تو نمائشی کارروائیوں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ صرف چھاپے مارنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ غیر قانونی تیاری، ترسیل اور فروخت کے پورے نیٹ ورک کو قانون کے مطابق توڑنا ہوگا۔ ایسے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا تاکہ قانون شکنی کرنے والوں کو یہ پیغام ملے کہ ریاست صرف قانون بنانے ہی نہیں بلکہ اسے نافذ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔ آخر میں سوال پھر وہی ہے، آخر ذمہ دار کون؟ کیا صرف وہ دکاندار جو چند روپے کے منافع کے لیے یہ زہر فروخت کرتا ہے؟ کیا وہ خریدار جو اپنی صحت کو داؤ پر لگا دیتا ہے؟ یا وہ نظام جو پابندی کے باوجود اس کاروبار کو مکمل طور پر روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا؟ یہ سوال کسی ایک فرد یا ادارے کے خلاف فیصلہ نہیں بلکہ پورے نظام سے جواب طلب کرتا ہے۔ کیونکہ جب قانون موجود ہو، خطرات سب پر عیاں ہوں اور اس کے باوجود ممنوعہ اشیاء کھلے عام فروخت ہوتی رہیں تو خاموشی خود ایک سوال بن جاتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اس سوال کا جواب صرف بیانات میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں دیا جائے۔ سندھ کے عوام کو یقین دہانیوں سے زیادہ نتائج درکار ہیں۔ نوجوان نسل کو تقریروں سے زیادہ تحفظ چاہیے، اور ریاست سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کی عملداری کو یقینی بنائے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک ایسے معاشرے میں پروان چڑھیں جہاں زہر نہیں، زندگی فروخت ہوتی ہو۔
