پاکستان میں صوبائی مسائل کی بحث صرف وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات تک محدود نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ صوبوں کو ملنے والے اختیارات اور وسائل عام شہری تک کس حد تک پہنچ رہے ہیں۔
18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو زیادہ اختیارات ملے، لیکن مقامی حکومتوں کو مؤثر سیاسی، انتظامی اور مالی اختیار منتقل کرنے کا مسئلہ اب بھی موجود ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140-A بھی صوبوں کو مقامی حکومتوں کو اختیارات اور ذمہ داریاں منتقل کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
صوبوں کے بڑے مسائل
پاکستان کے چاروں صوبوں کے مسائل مختلف نوعیت کے ہیں۔ پنجاب میں آبادی، شہری پھیلاؤ اور ٹرانسپورٹ بڑے چیلنجز ہیں۔ سندھ میں کراچی کے شہری مسائل کے ساتھ اندرونِ سندھ پانی، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کے مسائل نمایاں ہیں۔ خیبر پختونخوا میں دور دراز علاقوں تک خدمات کی فراہمی جبکہ بلوچستان میں وسیع رقبے، انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کی رسائی اہم چیلنجز ہیں۔
ان مسائل کا حل صرف زیادہ وسائل فراہم کرنا نہیں بلکہ ان وسائل کے مؤثر اور شفاف استعمال سے بھی جڑا ہے۔
کیا نئے صوبے حل ہیں؟
پاکستان میں نئے صوبوں کا مطالبہ وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہا ہے۔ حامیوں کے مطابق نئے انتظامی یونٹس سے حکومت عوام کے قریب آسکتی ہے، جبکہ مخالفین اسے صوبائی شناخت اور سیاسی استحکام کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
لیکن نیا صوبہ بنانا خود بخود بہتر حکمرانی کی ضمانت نہیں۔ اگر اختیارات دوبارہ ایک مرکزی حکومت میں جمع ہوجائیں اور مقامی ادارے کمزور رہیں تو عوام کے بنیادی مسائل برقرار رہ سکتے ہیں۔
اصل مسئلہ: مقامی حکومتوں کو اختیار
ایک عام شہری کے لیے یہ زیادہ اہم ہے کہ اسے صاف پانی، بہتر اسپتال، معیاری تعلیم، سڑکیں، صفائی اور مؤثر بلدیاتی خدمات مل رہی ہیں یا نہیں۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ صوبائی حکومتیں اختیارات اور وسائل کو اضلاع اور مقامی حکومتوں تک منتقل کریں، بجٹ کے استعمال میں شفافیت لائیں اور عوامی نمائندوں کو جواب دہ بنائیں۔
آخرکار بحث صرف اس بات پر نہیں ہونی چاہیے کہ نیا صوبہ بنے یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ اختیار کس کے پاس ہے، وسائل کہاں خرچ ہوتے ہیں اور عوام کو ان کا حق کب اور کیسے ملتا ہے؟
پاکستان میں بہتر حکمرانی کے لیے نقشے کی تبدیلی سے زیادہ ضروری اختیار، وسائل اور جواب دہی کو عوام کے قریب لانا ہے۔
