دبئی: الجداف کے علاقے میں بحری جہاز میں لگی آگ پر حکام کی وضاحت، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

فائبر گلاس کے جلنے سے دھوئیں کے بادل اٹھے، عوام افواہوں سے دور رہیں اور صرف سرکاری ذرائع پر بھروسہ کریں؛ حکام

دبئی حکام نے الجداف کے علاقے میں دبئی کریک (Dubai Creek) پر لنگر انداز ایک بحری جہاز میں لگنے والی آگ کے حوالے سے باقاعدہ وضاحت جاری کر دی ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ آگ لگنے کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جہاز کریک پر موجود تھا، تاہم خوش قسمتی سے اس حادثے میں کسی قسم کا جانی نقصان یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے اٹھنے والے سیاہ اور گہرے دھوئیں کی وجہ جہاز کی تیاری میں استعمال ہونے والا “فائبر گلاس” (Fiberglass) تھا، جو جلنے پر شدید دھواں پیدا کرتا ہے۔ اسی دھوئیں کے باعث شہریوں میں تشویش پائی جا رہی تھی، جس پر متعلقہ اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پایا اور صورتحال کو واضح کیا۔

دبئی حکام نے عوام اور سوشل میڈیا صارفین سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کے حوالے سے غیر تصدیق شدہ خبریں اور افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ شہری صرف سرکاری ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر یقین کریں تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا خوف و ہراس سے بچا جا سکے۔ پولیس اور ریسکیو اداروں نے جہاز میں آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں