ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کا نیا میکانزم: اب فیڈر کے بجائے ٹرانسفارمر کی سطح پر بجلی بند ہوگی

نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی کے باوجود درخواستوں کا تانتا بندھ گیا، 4 سال میں 94 فیصد بجلی مقامی وسائل سے پیدا کریں گے: وفاقی وزیر توانائی

ویب ڈیسک 13 مئی 2026

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے قومی اسمبلی میں بجلی کی فراہمی اور نیٹ میٹرنگ سے متعلق حکومتی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے ایک بڑے فیصلے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اب لوڈ شیڈنگ کا نیا میکانزم متعارف کروایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر کے 14 ہزار فیڈرز میں سے 11 ہزار 500 فیڈرز پہلے ہی زیرو لوڈ شیڈنگ پر ہیں، تاہم جن علاقوں میں لائن لاسز اور بجلی چوری زیادہ ہے، وہاں پورے فیڈر کو بند کرنے کے بجائے اب “ٹرانسفارمر لیول” پر بجلی بند کی جائے گی۔ اس نئی پالیسی کا مقصد ان صارفین کو تحفظ فراہم کرنا ہے جو باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں لیکن پورے فیڈر کے لاسز کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کا شکار ہوتے ہیں۔

نیٹ میٹرنگ پالیسی پر اٹھنے والے سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پرانے صارفین کے لیے شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، جبکہ نئے صارفین سے بجلی 9 روپے 80 پیسے کے حساب سے خریدی جائے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ نیٹ میٹرنگ اب بھی ایک انتہائی منافع بخش اور ماحول دوست کام ہے، اور ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کرنے والا صارف تین سال میں اپنی رقم پوری کر سکتا ہے۔ اویس لغاری نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ نیٹ میٹرنگ میں کسی غریب پر ظلم ہوا ہے، ان کا کہنا تھا کہ نیٹ میٹرنگ استعمال کرنے والے طبقے میں کوئی غریب نہیں ہے اور پالیسی میں تبدیلی کے بعد بھی درخواستوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی۔

وزیر توانائی نے ملک میں بجلی کی پیداوار کے مستقبل کا نقشہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال 74 فیصد بجلی مقامی وسائل سے پیدا کی گئی، جسے آئندہ چار سالوں میں 94 فیصد تک لے جایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ درآمدی کوئلے پر چلنے والے پلانٹس کو تھرکول پر منتقل کرنے سے بجلی کی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی۔ وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ مختلف ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (Discos) میں نقصانات کو تیزی سے کم کیا جا رہا ہے، جیسے لیسکو میں نقصانات 86 ارب سے کم ہو کر 18 ارب روپے پر آ گئے ہیں، جس کا براہ راست فائدہ صارفین کو پہنچے گا اور ان پر سے تقریباً 400 ارب روپے کا بوجھ کم کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں