ایران امریکا جنگ بندی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی، پاکستان میں پٹرول 200 روپے تک آنے کا امکان!

ٹوکیو (ویب ڈیسک) 24 جون 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اور امریکا ایران مذاکرات کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز بھی کمی کا رجحان برقرار رہا۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے سے سرمایہ کاروں کے وہ خدشات بڑی حد تک ختم ہو گئے ہیں جو سپلائی چین متاثر ہونے کے حوالے سے پائے جا رہے تھے۔ عالمی سطح پر ہونے والی اس بڑی کمی کے بعد پاکستانی عوام کے لیے بھی معاشی ماہرین نے بڑی خوشخبری سنا دی ہے، جس کے مطابق ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید سستی ہو کر 200 روپے فی لیٹر تک آنے کی قوی امید پیدا ہو گئی ہے۔

مارکیٹ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، بدھ کی دوپہر تک برینٹ کروڈ آئل (Brent Crude) کی قیمت میں 79 سینٹ یعنی 1.02% فیصد کمی دیکھی گئی، جس کے بعد اس کی قیمت 76.29 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی 80 سینٹ یا 1.09% فیصد کمی کے ساتھ 72.41 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔ دوسری جانب توانائی کے شعبے سے وابستہ دیگر عالمی اشاریے (Indices) بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہیں، جو مارکیٹ میں سپلائی کی صورتحال پر سرمایہ کاروں کے اطمینان کو ظاہر کرتے ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ گراوٹ کی بنیادی وجہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والی مثبت سفارتی فضا ہے۔ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ اگر یہ جنگ بندی پائیدار ثابت ہوئی تو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) کے ذریعے خام تیل کی نقل و حمل اور عالمی ترسیل بغیر کسی رکاوٹ کے معمول کے مطابق جاری رہے گی۔ واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگی حالات کے دوران اس اہم ترین راستے کی بندش کا خطرہ ہمیشہ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے کا سبب بنتا ہے۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگرچہ خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی (Geopolitical Tensions) مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، تاہم حالیہ کامیاب مذاکرات نے مارکیٹ کو بڑا حوصلہ دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں عالمی مارکیٹ اور پاکستانی معیشت پر اس کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران امریکا مذاکرات کس حد تک کامیاب رہتے ہیں، جنگ بندی کتنی پائیدار ثابت ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کا تسلسل کیسے برقرار رہتا ہے۔ اگر عالمی منڈی میں یہ استحکام برقرار رہا تو پاکستان میں مہنگائی کے مارے عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک تاریخی ریلیف مل سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں