
پاکستان میں خواتین کی خود مختاری اور ان کے حقوق پر اکثر بحث ہوتی ہے، لیکن کچھ قوانین اور بینکنگ پالیسیاں ایسی ہیں جو آج کے دور میں بھی خواتین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھتی ہیں۔ انہی میں سے ایک اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت بینکوں میں بچوں کے اکاؤنٹس کھلواتے وقت یا مالیاتی معاملات سنبھالتے وقت ماں کو اس کے اپنے ہی بچوں کا قدرتی یا قانونی سرپرست تسلیم کرنے میں شدید رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔
بہت سی ماؤں کے لیے یہ ایک انتہائی تکلیف دہ اور تذلیل آمیز تجربہ ہوتا ہے جب وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے بینک جاتی ہیں اور انہیں یہ کہہ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ “جب تک والد یا کوئی اور مرد سرپرست موجود نہیں، اکاؤنٹ نہیں کھل سکتا۔”
مسئلہ کیا ہے؟
بینکنگ قوانین اور گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ (Guardian and Wards Act, 1890) کے پرانے قوانین کے ملاپ سے ایک ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے جہاں:
والد کو (واحد) قدرتی سرپرست مانا جاتا ہے: اگر کسی بچے کے والدین ساتھ رہ رہے ہوں، یا ان کے درمیان علیحدگی ہو چکی ہو، بینک زیادہ تر معاملات میں صرف والد کے دستخط اور دستاویزات کو ہی قانونی اہمیت دیتے ہیں۔
ماں کی حیثیت صرف نگران (Custodian) کی: عدالتیں اکثر ماؤں کو بچوں کی پرورش (Hizanat) کا حق تو دے دیتی ہیں، لیکن مالیاتی سرپرستی (Financial Guardianship) اب بھی والد یا عدالت کے نامزد کردہ مرد کے پاس رہتی ہے۔
بیواؤں اور مطلقہ خواتین کے لیے مشکلات: اگر کوئی ماں اکیلی (Single Parent) اپنے بچوں کی کفالت کر رہی ہے، تب بھی بینکوں کی طرف سے اس سے عدالت کا “گارڈین شپ سرٹیفکیٹ” مانگا جاتا ہے، جس کے حصول کے لیے اسے مہینوں کچہریوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔

اس پالیسی کے معاشرتی اور نفسیاتی اثرات
جب ایک ماں نو ماہ بچے کو اپنی کوکھ میں پالتی ہے، اس کی پرورش کرتی ہے، دن رات اس کی دیکھ بھال کرتی ہے، تو مالیاتی معاملات میں اسے اپنے ہی بچے کے لیے “غیر” قرار دے دینا ایک سنگین ناانصافی ہے۔
1.خواتین کی تذلیل: ایک پڑھی لکھی، برسرِروزگار یا بااختیار خاتون بھی جب بینک کی کھڑکی پر کھڑی ہوتی ہے، تو اسے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ مرد کے بغیر اپنے بچے کے لیے کوئی فیصلہ کرنے کی اہل نہیں ہے۔
2.بچوں کے مستقبل میں رکاوٹ:* اگر والد لاپتہ ہو، بچوں کی ذمہ داری نہ اٹھا رہا ہو، یا طلاق کے بعد تعاون نہ کر رہا ہو، تو ماں بینک اکاؤنٹ نہ کھلنے کی وجہ سے بچوں کی تعلیم یا مستقبل کے لیے رقم جمع کرنے سے قاصر رہ جاتی ہے۔
عدالتوں کا موقف اور تبدیلی کی ضرورت
سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس نے کئی بار اپنے فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ ماں بچے کی بہترین خیرخواہ ہے اور اسے سرپرستی سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ تاہم، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور نجی بینکوں کی سطح پر ان قوانین کو آسان اور واضح نہیں بنایا گیا۔
وقت کا تقاضا: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو اپنی ریگولیٹری پالیسیوں کو فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ بینکنگ فارمز میں ایسی ترمیم ہونی چاہیے جہاں ماں کو کسی اضافی عدالتی سرٹیفکیٹ کے بغیر، بچے کی قدرتی سرپرست کے طور پر اکاؤنٹ کھولنے اور چلانے کی مکمل اجازت ہو۔
پاکستان کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ جب تک ہم ماؤں کو ان کے بچوں کے معاملے میں بااختیار اور قانونی طور پر خودمختار تسلیم نہیں کریں گے، تب تک ایک ترقی یافتہ معاشرے کا خواب ادھورا رہے گا۔ اس دقیانوسی اور تکلیف دہ بینکنگ نظام کو اب بدلنا ہوگا۔
