Governor State Bank of Pakistan Jamil Ahmed discussing economic policies and inflation targets.

🚨 عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھنے لگیں، معاشی تخمینوں پر دوبارہ غور کریں گے، گورنر اسٹیٹ بینک کا بڑا بیان!

کراچی (ویب ڈیسک) 9 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے ملکی معیشت اور افراطِ زر کے حوالے سے اہم ترین ڈیٹا جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عالمی مارکیٹ اور خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتِ حال کے باعث خام تیل کی قیمتیں دوبارہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں اس اچانک اضافے کے بعد اسٹیٹ بینک آئندہ مالی سال کے تمام تر مالی و معاشی تخمینوں کو دوبارہ سے پرکھے گا اور ان کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم، انہوں نے ایک مثبت امید دلاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جاری مالی سال 2026 کے مقابلے میں آنے والے مالی سال 2027 میں پاکستان میں مہنگائی اور افراطِ زر کا مجموعی منظرنامہ کافی حد تک بہتر اور مستحکم رہنے کی قوی توقع ہے، جس سے عوام اور کاروباری طبقے کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے ملکی جی ڈی پی اور کرنٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے خوش آئند اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2026 میں تمام تر جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور چیلنجز کے باوجود پاکستانی معیشت مضبوطی سے ثابت قدم رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مالی سال 2026 میں پاکستان کی جی ڈی پی (GDP) نمو 3.7 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ اوسط افراطِ زر (Inflation Rate) 7.05 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ اسٹیٹ بینک کے مقرر کردہ 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے انتہائی قریب ہے۔ معاشی استحکام کا ایک اور بڑا ثبوت دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے ابتدائی 11 ماہ کا ملکی کرنٹ اکاؤنٹ مجموعی طور پر 25 کروڑ 50 لاکھ (255 ملین) ڈالر سرپلس رہا ہے، اور امید ہے کہ پورے 12 ماہ کا فائنل ڈیٹا بھی سرپلس ہی رہے گا، جبکہ مالی سال 2027 میں بھی کرنٹ اکاؤنٹ کے سرپلس رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

بینکنگ شعبے اور چھوٹے تاجروں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے گورنر جمیل احمد نے بتایا کہ گزشتہ 4 سال کے دوران چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو قرضوں کی فراہمی کا حجم دوگنا ہو چکا ہے، جبکہ قرض حاصل کرنے والے فعال تاجروں کی تعداد میں بھی 75 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے تمام تجارتی بینکوں کو سخت ہدایت کی کہ وہ لکیر کے فقیر بننے کے بجائے مختلف صنعتی سیکٹرز کی ضرورت کے حساب سے جدید اور مخصوص لون پروڈکٹس تیار کریں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بینکوں کی جانب سے قرضوں کے اجرا کا اصل مقصد صرف رقم کی فراہمی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا بنیادی ہدف ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا، کاروباری برادری کی صلاحیت بڑھانا اور مجموعی طور پر قومی معاشی نمو کو فروغ دینا ہونا چاہیے تاکہ ملکی معیشت پائیدار بنیادوں پر ترقی کر سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں