انٹرنیٹ کی دنیا کا سب سے بڑا دھماکا: دنیا کی 68 فیصد آبادی سوشل میڈیا کی اسیر، 5 ارب سے زائد افراد روزانہ گھنٹوں آن لائن، بچوں پر پابندیوں کا عالمی آغاز!

کراچی (ویب ڈیسک) 2 جولائی 2026

ڈیجیٹل رابطوں اور مواصلات کے عالمی دن “سوشل میڈیا ڈے” کے موقع پر سامنے آنے والی ایک عالمی تحقیقی رپورٹ نے پوری دنیا کو حیران کر کے رکھ دیا ہے، جس کے مطابق سوشل میڈیا اب محض گپ شپ یا رابطے کا عارضی ذریعہ نہیں رہا بلکہ دنیا بھر کے اربوں انسانوں کی روزمرہ زندگی کا ایک لازمی اور ناقابلِ فرار حصہ بن چکا ہے۔ ‘ڈیٹا ری پورٹل’ کی جانب سے جاری کردہ “ڈیجیٹل 2026 گلوبل اوور ویو رپورٹ” کے سنسنی خیز اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت دنیا بھر میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والے فعال صارفین کی مجموعی تعداد 5.66 ارب تک پہنچ چکی ہے، جو کہ روئے زمین پر موجود کل انسانی آبادی کے 68 فیصد سے بھی زائد کے برابر ہے۔

عالمی رپورٹ کے مطابق، سال 2005 میں دنیا بھر میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد 50 کروڑ سے بھی کم تھی، جو محض دو دہائیوں میں تیز رفتاری سے بڑھتی ہوئی 5 ارب سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس ہوش ربا فکری و ڈیجیٹل انقلاب کی سب سے بڑی وجہ مارکیٹ میں کم قیمت اسمارٹ فونز کی بھرمار اور پسماندہ علاقوں تک تیز ترین انٹرنیٹ کی سستی رسائی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، دنیا کا ایک اوسط صارف ہفتے میں 18 گھنٹے 36 منٹ یعنی روزانہ تقریباً 2 گھنٹے 39 منٹ مختلف سوشل ایپس پر اسکرولنگ کرتے ہوئے گزارتا ہے، جو سالانہ بنیادوں پر زندگی کے قیمتی 40 دن بنتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ سوشل میڈیا مشرقی ایشیا میں 88.1 فیصد جبکہ سب سے کم وسطی افریقا میں محض 12.1 فیصد استعمال کیا جا رہا ہے۔

مقبولیت کے اعتبار سے دنیا کے سب سے بڑے پلیٹ فارمز کی درجہ بندی میں مارک زکربرگ کی کمپنی ‘میٹا’ (Meta) کا راج بدستور قائم ہے۔ فیس بک 3.07 ارب ماہانہ فعال صارفین کے ساتھ دنیا کا پہلا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے، جہاں ‘ریلز’ کا فارمیٹ سب سے مقبول ہے۔ دوسرے نمبر پر انسٹاگرام اور واٹس ایپ ہیں جن کے صارفین کی تعداد بھی 3 ارب کے قریب پہنچ چکی ہے۔ گوگل کی ملکیت ‘یوٹیوب’ 2.58 ارب صارفین کے ساتھ تیسرے جبکہ چینی ایپ ‘ٹک ٹاک’ 1.99 ارب صارفین کے ساتھ چوتھے نمبر پر موجود ہے۔ تاہم، اس جادوئی عروج کے ساتھ ہی نئی نسل خصوصاً بچوں کی ذہنی و جسمانی صحت اور ان میں بڑھتی ہوئی لت (Addiction) کے حوالے سے دنیا بھر کی حکومتوں میں شدید ترین تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

سوشل میڈیا کے اس بڑھتے ہوئے ہولناک پھیلاؤ کو روکنے کے لیے یورپی پارلیمنٹ اور دنیا بھر کی بڑی طاقتوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے جنگی بنیادوں پر قوانین بنانا شروع کر دیے ہیں۔ آسٹریلیا نے تاریخ رقم کرتے ہوئے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی، جس کے بعد انڈونیشیا یہ قانون نافذ کرنے والا ایشیا کا پہلا ملک بن گیا۔ برازیل اور ترکیہ نے بھی بچوں کے لیے اکاؤنٹس کو والدین کے سرپرستی سے جوڑنے اور لت پیدا کرنے والے فیچرز جیسے ‘انفائناٹ اسکرول’ اور ‘آٹو پلے’ پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جبکہ برطانیہ نے بھی 2027 سے 16 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا جہاں دنیا کو جوڑنے کا ذریعہ ہے، وہیں اب اس کا ذمہ دارانہ استعمال بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں