اسرائیل کی جانب سے غزہ امدادی قافلے کے 430 سے زائد رضاکار رہا؛ برکاتی فاؤنڈیشن کے روحِ رواں ڈاکٹر حاجی رفیق پردیسی نے فیصل ایدھی کے صاحبزادے سعد ایدھی سمیت تمام کارکنوں کی بحفاظت واپسی پر اللہ کا شکر ادا کیا
کراچی (علیم نواب خان سے) غزہ کے محصور اور مظلوم مسلمانوں کے لیے امدادی سامان لے جانے والے بین الاقوامی بحری قافلے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کے تمام گرفتار ارکان کو بالآخر اسرائیل کی جانب سے رہا کر دیا گیا ہے، جس کی باقاعدہ تصدیق اسرائیلی حکام اور عالمی اداروں نے کر دی ہے۔
امریکہ میں قائم فلسطینی حقوق کی تنظیم ‘عدالہ’ کے مطابق، رہا کیے گئے تمام بین الاقوامی امدادی کارکنوں کو اس وقت اسرائیل بدر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، ترکیے کے وزیرِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ رہا ہونے والے متعدد کارکنوں اور رضاکاروں کو خصوصی پروازوں کے ذریعے ترکیے منتقل کیا جا رہا ہے جہاں سے وہ اپنے اپنے ممالک کے لیے روانہ ہوں گے۔
سعد ایدھی کی رہائی پر ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی کا خدا کا شکر اور اظہارِ تشکر
پاکستان کی ممتاز سماجی و فلاحی شخصیت اور برکاتی فاؤنڈیشن کے روحِ رواں ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے تمام گرفتار ارکان، بالخصوص پاکستان کے معروف سماجی کارکن فیصل ایدھی کے صاحبزادے سعد ایدھی کی بحفاظت رہائی پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا بے پناہ شکر ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی نے اپنے ایک خصوصی پیغام میں کہا کہ سعد ایدھی اور ان کے ساتھیوں نے انسانیت کی خدمت اور فلسطینی بھائیوں کی مدد کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔ انہوں نے سعد ایدھی کی عزم و ہمت کو سراہتے ہوئے ان کی وطن واپسی اور خیریت پر گہرے اطمینان اور مسرت کا اظہار کیا۔

فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ اور دورانِ حراست بدسلوکی پر عالمی تشویش
واضح رہے کہ چند روز قبل اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ کی جانب بڑھنے والے امدادی بحری قافلے کی تمام کشتیوں کو زبردستی تحویل میں لے لیا تھا اور اس پر سوار 430 سے زائد غیر ملکی رضاکاروں کو حراست میں لے لیا تھا، جن میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ایدھی فاؤنڈیشن کے سعد ایدھی بھی شامل تھے۔
فلوٹیلا کے شرکاء اور عالمی انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے یہ سنگین الزامات عائد کیے گئے کہ دورانِ حراست امدادی کارکنوں پر بدترین جسمانی اور نفسیاتی تشدد کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی سیکیورٹی اہلکاروں نے پرامن رضاکاروں پر ٹیزر گنز اور ربڑ کی گولیوں کا وحشیانہ استعمال کیا، جبکہ انسانیت سوز رویہ اختیار کرتے ہوئے بعض خواتین شرکاء کے حجاب بھی زبردستی اتارے گئے۔
اسرائیلی وزیر کی ویڈیو پر دنیا بھر میں شدید غم و غصہ
اس پورے واقعے کے دوران عالمی سطح پر اس وقت شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جب اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے متعصب وزیر ایتامار بن گویر نے سوشل میڈیا پر ایک تذلیل آمیز ویڈیو شیئر کی۔ اس ویڈیو میں گرفتار پشت پناہ امدادی کارکنوں کو گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھے دکھایا گیا تھا، جس کی دنیا بھر کے سفارتی اور سماجی حلقوں نے شدید مذمت کی۔
اسرائیل کی اس بزدلانہ کارروائی کے بعد پاکستان سمیت دنیا کے درجنوں ممالک نے فوری سفارتی دباؤ بڑھایا اور اقوامِ متحدہ سے امدادی کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں آج تمام محبِ انسانیت رضاکاروں کی رہائی ممکن ہو سکی ہے۔