ابوظبی (ویب ڈیسک) — 14 جولائی 2026
خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حالیہ حملوں کے بعد، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اپنی تجارتی بقا اور اقتصادی سلامتی کو محفوظ بنانے کے لیے ایک بڑا اور تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ اماراتی حکومت نے دبئی کی بندرگاہوں پر انحصار کم کرنے اور ایران کے کنٹرول والی آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے اپنی مشرقی ساحلی ریاست فجیرہ میں ایک نئی کثیرالمقاصد بندرگاہ قائم کرنے کا حتمی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، دبئی کی عالمی شہرت یافتہ پورٹ کمپنی ‘ڈی پی ورلڈ’ (DP World) اس اہم منصوبے کی نگرانی کر رہی ہے اور اس سلسلے میں اماراتی حکام کے ساتھ حتمی مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔
اس منصوبے کے تحت نہ صرف فجیرہ کے ساحل پر ایک بالکل نئی بندرگاہ تعمیر کی جائے گی، بلکہ وہاں پہلے سے موجود پورٹ آف فجیرہ میں ایک جدید ترین کنٹینر ٹرمینل بھی قائم کیا جائے گا تاکہ درآمدی و برآمدی سرگرمیوں کو تیز ترین بنایا جا سکے۔ اس ہنگامی فیصلے کا بنیادی مقصد دبئی کی مشہورِ زمانہ جبل علی پورٹ پر دباؤ اور انحصار کو کم کرنا ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کی وجہ سے آبنائے ہرمز کا راستہ انتہائی غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ ایرانی دھمکیوں اور بحری ناکہ بندی کی وجہ سے جبل علی پورٹ کی سرگرمیوں میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے امارات کو اس متبادل راستے پر تیزی سے کام کرنے پر مجبور کیا۔
نئی بندرگاہ کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہوگی کہ عالمی کنٹینرز اور تجارتی سامان آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے بغیر براہِ راست فجیرہ کے راستے یو اے ای لایا اور یہاں سے دنیا بھر میں روانہ کیا جا سکے گا۔ ڈی پی ورلڈ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق، اگر یہ منصوبہ طے شدہ رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو نئی بندرگاہ کو ریکارڈ مدت یعنی صرف ڈیڑھ سال کے اندر مکمل فعال کر لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ابوظبی پہلے ہی اپنے خام تیل کا ایک بڑا حصہ پائپ لائن کے ذریعے فجیرہ پہنچا کر وہاں سے برآمد کرتا ہے، اور اس نئے منصوبے کے بعد یو اے ای خلیجی خطے میں سمندری تجارت کا پورا رخ تبدیل کرنے کی مکمل صلاحیت حاصل کر لے گا۔
