Interior Minister Sindh Zia-ul-Hassan Lanjar addressing press conference with IG Sindh regarding Qari Basheer arrest

کراچی: رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار، سنسنی خیز اعترافات سامنے آ گئے

کراچی (ویب ڈیسک) — 14 جولائی 2026

کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں سندھ رینجرز کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے آئی جی سندھ جاوید عالم، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک اور ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر کے ہمراہ ایک ہنگامی اور اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے رینجرز کیمپ حملے میں ملوث سہولت کاروں کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ 27 جون کو ہونے والے اس حملے میں ملوث تین افغان اور ایک باجوڑ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد کو رینجرز نے ناکام بنایا تھا، اور اب اس پورے کھیل کا مرکزی مہرہ قانون کی گرفت میں ہے۔

ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس نیٹ ورک کی کڑیاں براہِ راست افغانستان سے جڑی ہوئی ہیں۔ حملے کے ماسٹر مائنڈ قاری بشیر کو افغانستان بلا کر اس حملے کا ٹاسک دیا گیا تھا، جس نے حب سٹی کے راستے دہشت گردوں کو کراچی پہنچایا اور کورنگی کراسنگ پر انہیں کرائے کا کمرہ اور موٹر سائیکل فراہم کی۔ قاری بشیر کی گرفتاری کے بعد اس کے موبائل فون سے دہشت گردوں کی تیاری اور حملے کے لیے روانگی کی ناقابلِ تردید ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں، جس میں وہ خودکش بمبار جانان افغانی اور دیگر کو رخصت کرتے ہوئے ویڈیو بنا رہا ہے۔ حملے کے دوران دہشت گرد جانان نے خود کو دھماکے سے اڑایا تھا جس کے بعد اس کے دیگر ساتھی اندر داخل ہوئے تھے۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق، گرفتار ہونے والے زخمی دہشت گرد عثمان نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اسے افغانستان کے ایک مدرسے سے منتخب کر کے مختلف کیمپوں میں حملے کی باقاعدہ تربیت دی گئی۔ قاری بشیر نے اپنے ویڈیو بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ٹی ٹی پی کمانڈر سعید شاہ کے کہنے پر اس نے لیاقت نامی شخص سے کلاشنکوف اور دستی بم وصول کر کے دہشت گردوں تک پہنچائے۔ وزیر داخلہ سندھ نے واضح کیا کہ دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بناتے ہوئے رینجرز نے تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا اور اب ماسٹر مائنڈ سمیت سہولت کاروں کی گرفتاری سیکیورٹی فورسز کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ فتنہ الخوارج پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے افغان سرزمین کا استعمال کر رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں