حکومت کی جانب سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کا عزم؛ 2026-31 کی نئی آٹو پالیسی سے سالانہ 4.5 ارب ڈالر کی بچت متوقع
ویب ڈیسک | 31 مئی 2026
پاکستان کی آٹوموبائل صنعت ایک بڑی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ تازہ ترین صنعتی اعداد و شمار کے مطابق جون سے دسمبر 2026 کے درمیان پاکستانی مارکیٹ میں 23 نئی گاڑیاں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے، جن میں سے 20 گاڑیاں جدید برقی ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گی۔
ٹیکنالوجی کا نیا رجحان
متعارف ہونے والی ان گاڑیوں میں سے 87 فیصد الیکٹرک، ہائبرڈ یا رینج ایکسٹینڈڈ (Range-Extended) ٹیکنالوجی پر مشتمل ہوں گی۔ آٹو انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق، پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے اس تیزی سے فروغ میں چینی کمپنیاں اپنے مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
پالیسی اور معاشی اثرات
آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی (AIDEP 2021-26) کے تحت شروع ہونے والی یہ تبدیلی اب مزید وسعت اختیار کرنے جا رہی ہے۔ ماہرِ آٹو انڈسٹری شفیق احمد شیخ کے مطابق:
نئی پالیسی: آنے والی آٹو پالیسی 2026-31 اس عمل کو مزید تیز کرے گی۔
مقصد: حکومت کا بنیادی مقصد درآمدی تیل اور ایل این جی (LNG) پر انحصار کو کم کرنا ہے۔
معاشی فائدہ: ٹرانسپورٹ سیکٹر کی تدریجی برقی کاری سے ملک کو سالانہ تقریباً 4.5 ارب ڈالر کی بچت متوقع ہے۔
حکومت کی مراعات
حکومت پاکستان اس صنعت کو فروغ دینے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور خریداری پر مختلف مراعات فراہم کر رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ صارفین کو ایندھن کے اخراجات میں بھی خاطر خواہ ریلیف ملے گا، جس سے پاکستان میں روایتی پیٹرول گاڑیوں کے دور کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔