Social awareness conceptual image highlighting youth mental health and protection against drug addiction

نوجوانوں میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان: ایک سنگین سماجی المیہ اور اس کے حل کی ضرورت


موجودہ دور کو ترقی، ٹیکنالوجی اور سہولیات کا دور کہا جاتا ہے، جہاں انسان نے بے شمار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ لیکن اس ترقی کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں جو معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ انہی مسائل میں ایک نہایت خطرناک اور تشویشناک مسئلہ نوجوانوں میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف ایک فرد کی تباہی کا سبب بنتا ہے بلکہ پورے معاشرے، خاندان اور ملک کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں نوجوان نسل منشیات کی طرف تیزی سے مائل ہو رہی ہے۔ تعلیمی اداروں، یونیورسٹیوں، پارکوں اور دیگر عوامی مقامات پر منشیات کی آسان دستیابی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ ابتدا میں اکثر نوجوان محض تجسس، دوستوں کے دباؤ یا وقتی لطف کے لیے نشے کا استعمال کرتے ہیں، مگر آہستہ آہستہ یہی عادت ایک خطرناک لت میں تبدیل ہو جاتی ہے، جس سے چھٹکارا حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

اس بڑھتے ہوئے رجحان کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ بے روزگاری اور معاشی مسائل ہیں۔ جب نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق مواقع نہیں ملتے تو وہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح خاندانی ناچاقی، والدین کی عدم توجہ، گھریلو جھگڑے اور جذباتی خلا بھی نوجوانوں کو غلط راستے کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بری صحبت اور سوشل میڈیا پر منفی اثرات بھی ایک بڑی وجہ ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا پر ایسی چیزوں کو بعض اوقات فیشن یا اسٹیٹس سمبل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا باعث بنتا ہے۔

نوجوان اکثر اپنی ناکامیوں، ذہنی دباؤ، تنہائی اور ڈپریشن سے بچنے کے لیے منشیات کا سہارا لیتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ نشہ انہیں وقتی سکون فراہم کرے گا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ یہ وقتی سکون ان کی زندگی کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے اور وہ ایک ایسے دائرے میں پھنس جاتے ہیں جہاں سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔

منشیات کے استعمال کے اثرات نہایت تباہ کن ہوتے ہیں۔ ایک نشے کا عادی نوجوان نہ صرف اپنی جسمانی صحت کھو دیتا ہے بلکہ اس کی ذہنی صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ وہ تعلیم سے دور ہو جاتا ہے، اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور وہ اپنے کیریئر کے مواقع بھی کھو دیتا ہے۔ اس کے علاوہ غصہ، بے چینی، اضطراب اور ڈپریشن جیسے مسائل اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کئی نوجوان اپنی نشے کی لت پوری کرنے کے لیے جرائم، چوری اور تشدد جیسے راستے اختیار کر لیتے ہیں، جو نہ صرف ان کی اپنی زندگی بلکہ معاشرے کے امن کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

یہ مسئلہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے خاندان کو متاثر کرتا ہے۔ والدین ذہنی اذیت کا شکار ہو جاتے ہیں، خاندان کی عزت متاثر ہوتی ہے اور معاشرتی تعلقات بھی خراب ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ایک نوجوان کی تباہی پورے معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرہ بن جاتی ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے اجتماعی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید فعال بنایا جائے۔ تعلیمی اداروں کے اطراف نگرانی سخت کی جائے تاکہ نوجوانوں کو منشیات تک رسائی نہ مل سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں جیسے کھیل، ہنر سکھانے کے پروگرام اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں تاکہ وہ اپنی توانائیاں مثبت انداز میں استعمال کر سکیں۔
منشیات سے بحالی کے مراکز کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ ایسے مراکز کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے اور ان کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ متاثرہ افراد کو بروقت علاج اور بحالی کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس کے علاوہ معاشرے میں ایسے افراد کو قبول کرنے کا رویہ بھی پیدا کیا جائے تاکہ وہ دوبارہ ایک نارمل زندگی گزار سکیں۔
والدین کی ذمہ داری اس حوالے سے سب سے زیادہ اہم ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ بچوں کی سرگرمیوں، دوستوں اور رویوں پر نظر رکھیں اور اگر کسی غیر معمولی تبدیلی کو محسوس کریں تو فوری توجہ دیں۔ صرف ڈانٹ ڈپٹ یا سختی سے کام لینے کے بجائے محبت، رہنمائی اور اعتماد کا ماحول فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ بچے اپنے مسائل کھل کر بیان کر سکیں۔
تعلیمی ادارے بھی اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں منشیات کے نقصانات کے حوالے سے آگاہی پروگرام، سیمینار اور ورکشاپس کا انعقاد کیا جانا چاہیے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کی نفسیاتی کیفیت پر نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک رویے کی صورت میں والدین کو بروقت آگاہ کریں۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ ایسے پروگرام اور مہمات چلائے جو نوجوانوں کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کریں اور انہیں صحت مند طرز زندگی اپنانے کی ترغیب دیں۔ سوشل میڈیا کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو تعمیری سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جا سکے۔
نوجوانوں کو خود بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے مقصد کو پہچانیں اور منفی سرگرمیوں سے دور رہیں۔ کھیل، مطالعہ، تخلیقی کاموں اور دینی و اخلاقی تعلیمات کی طرف توجہ دے کر وہ نہ صرف خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ اور روشن مستقبل ہوتے ہیں۔ اگر یہی نوجوان منشیات کی لعنت میں مبتلا ہو جائیں تو ملک کی ترقی اور خوشحالی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، والدین، اساتذہ، میڈیا اور خود نوجوان مل کر اس ناسور کے خلاف آواز بلند کریں۔ بروقت اقدامات، مؤثر حکمت عملی اور اجتماعی شعور ہی ہمیں اس خطرناک مسئلے سے نجات دلا سکتے ہیں اور ایک صحت مند، مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں