ایس ای سی پی کا کارپوریٹ شفافیت کیلئے بڑا قدم: ’’سرٹیفکیٹ آف اسٹیچوٹری کمپلائنس‘‘ فریم ورک متعارف

کراچی ویب ڈیسک | 1 جون 2026

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ملک میں کارپوریٹ شفافیت کو فروغ دینے اور کاروباری ماحول کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ’’سرٹیفکیٹ آف اسٹیچوٹری کمپلائنس‘‘ (Certificate of Statutory Compliance) فریم ورک متعارف کروا دیا ہے۔ اس نئے فریم ورک کے تحت کمپنیوں کو ان کی ریگولیٹری ذمہ داریوں کی تکمیل پر باقاعدہ سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔

آئی پی ایل میں کامیابی کے جذباتی مناظر: ویرات کوہلی کی جیت پر انوشکا شرما کے پیار بھرے انداز نے دل جیت لیے

یہ اقدام جہاں ایک جانب ملکی کمپنیوں کے کاروباری ریکارڈ کو مستحکم کرے گا، وہیں دوسری جانب یہ بین الاقوامی سطح پر پاکستانی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری اور شراکت داری کے نئے دروازے بھی کھولے گا، کیونکہ بیرونِ ملک کاروباری ادارے کمپلائنس سرٹیفکیٹ کی حامل کمپنیوں پر زیادہ اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔

کراچی: بجلی کا طویل بحران، الیکٹرک بس سروس کے پہیے جام ہونے کا خدشہ

ایس ای سی پی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ سرٹیفکیٹ کمپنی کی درست رجسٹریشن، اس کی فعال حیثیت (Active Status) اور ریگولیٹری تقاضوں کی مکمل پاسداری کی تصدیق کرے گا۔ تاہم، یہ سہولت تمام کمپنیوں کے لیے دستیاب نہیں ہوگی۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ وہ کمپنیاں جو غیر فعال ہیں، جن کے خلاف تحقیقات جاری ہیں، یا جن کا ریکارڈ نامکمل ہے، وہ اس سرٹیفکیٹ کی اہل نہیں ہوں گی۔ اسی طرح، اگر کسی کمپنی نے اپنی ضروری ریٹرن فائلنگز (Return Filings) مکمل نہیں کی ہیں، تو اسے بھی کمپلائنس سرٹیفکیٹ کا اجرا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ سخت شرائط اس بات کو یقینی بنانے کے لیے رکھی گئی ہیں کہ صرف وہی کمپنیاں عالمی سطح پر شناخت حاصل کریں جو قانون کی مکمل پاسداری کر رہی ہیں۔

پاکستان کی برآمدات میں تاریخی اضافے کا امکان: آئی ایم ایف کی نئی پیش گوئی

اس نئے نظام سے فائدہ اٹھانے کے خواہشمند اداروں کو اپنی درخواستیں ایس ای سی پی کے ’رجسٹرار آف کمپنیز‘ (Registrar of Companies) کو جمع کروانی ہوں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پاکستان میں “ایز آف ڈوئنگ بزنس” (Ease of Doing Business) کے اشاریوں میں بہتری آئے گی اور کمپنیوں کے درمیان ایک صحت مند مسابقتی فضا قائم ہوگی جس میں شفافیت اولین ترجیح ہوگی۔ ایس ای سی پی کا یہ فیصلہ کارپوریٹ سیکٹر میں نظم و ضبط لانے اور غیر قانونی یا مشکوک کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے ایک مؤثر ہتھیار ثابت ہوگا۔ توقع ہے کہ اس فریم ورک کے نفاذ سے ملکی معیشت کے اندر کارپوریٹ گورننس کے معیارات بلند ہوں گے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔

2 تبصرے ”ایس ای سی پی کا کارپوریٹ شفافیت کیلئے بڑا قدم: ’’سرٹیفکیٹ آف اسٹیچوٹری کمپلائنس‘‘ فریم ورک متعارف

اپنا تبصرہ لکھیں