ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے بڑی خوشخبری: حکومت کی پراپرٹی ٹیکس میں بھاری کمی کی تجویز

کراچی ویب ڈیسک | 1 جون 2026

حکومتِ پاکستان نے ملک کے اہم ترین ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو بحال کرنے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں نمایاں کمی لانے کی تجویز کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد مارکیٹ میں مندی کے شکار پراپرٹی سیکٹر میں دوبارہ سرگرمی پیدا کرنا اور تعمیراتی سرگرمیوں کو تیز کرنا ہے۔ حکومت کا یہ مؤقف ہے کہ ٹیکسوں کی شرح میں کمی سے نہ صرف مارکیٹ میں لین دین بڑھے گا، بلکہ اس کے نتیجے میں مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی بہتری آئے گی۔ اس اہم پیش رفت کے حوالے سے آئی ایم ایف (IMF) کو بھی اعتماد میں لے لیا گیا ہے۔

صومالیہ میں یرغمال 10 پاکستانیوں کی بازیابی کے لیے فریاد، ویڈیو میں دلخراش صورتحال کا انکشاف

تجویز کے مطابق، یہ ریلیف صرف ان افراد کے لیے ہوگا جو ایف بی آر (FBR) کے ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل ہیں یعنی ‘فائلرز’ ہیں۔ فائلرز کے لیے پراپرٹی خریدنے پر ٹیکس کی موجودہ شرح 1.5 فیصد سے کم کر کے صرف 0.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اسی طرح، جائیداد فروخت کرنے پر ٹیکس 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد تک لایا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس حکمت عملی کا واضح پیغام یہ ہے کہ ملک میں ٹیکس کلچر کو فروغ دیا جائے اور جو شہری ٹیکس نیٹ میں شامل ہیں، انہیں زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔

دوسری جانب، حکومت نے نان فائلرز کے لیے کسی قسم کی نرمی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نان فائلرز کے لیے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس کی موجودہ شرح 10.5 فیصد بدستور برقرار رہے گی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کا زور ٹیکس گزاروں کی حوصلہ افزائی پر ہے۔ یہ تجاویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب وفاقی بجٹ 2026-27 کے اعلان میں چند دن ہی باقی ہیں۔ توقع ہے کہ 5 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے بجٹ میں ان اقدامات کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا، جس سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ایک نئی لہر دوڑنے اور معیشت کے پہیے کو مزید تیزی سے گھمانے میں مدد ملنے کی امید ہے۔

کراچی: بجلی کا طویل بحران، الیکٹرک بس سروس کے پہیے جام ہونے کا خدشہ

ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے بڑی خوشخبری: حکومت کی پراپرٹی ٹیکس میں بھاری کمی کی تجویز“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ لکھیں