گھریلو ملازمہ کا اجتماعی زیادتی کے بعد اسقاط حمل کے دوران المناک انتقال، کیس میں قتل کی دفعات شامل

لاہور ویب ڈیسک | 2 جون 2026

لاہور میں ایک گھریلو ملازمہ کی مبینہ اجتماعی زیادتی اور اس کے بعد اسقاط حمل کے دوران ہلاکت کے معاملے نے ایک نیا اور سنگین موڑ اختیار کر لیا ہے۔ مقتولہ کی موت کے بعد مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 (قتل) شامل کر لی گئی ہے، جس کے بعد پولیس نے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے مقتولہ کے سابقہ مالکان کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی کیس کو جینڈر سیل سے منتقل کر کے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ اس المناک واقعے کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔ پولیس نے کیس کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے مالکان کو نئے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

لاہور: خاتون کو ورغلا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والا جعلی پیر گرفتار

تفتیشی حکام کے مطابق، مقتولہ نے اپنے انتقال سے قبل ایک ویڈیو بیان میں انکشاف کیا تھا کہ وہ نومبر 2025 میں حاملہ ہوئی تھی اور اس نے اپنے والدین کو اس صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا۔ لڑکی کے تحریری اور ویڈیو بیان کی بنیاد پر پہلے ہی اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کیا جا چکا تھا، جس میں ایک ملزم، ڈرائیور حسن، کو گرفتار کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جا چکا ہے۔ تاہم، اب قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی نوعیت یکسر تبدیل ہو گئی ہے۔ پولیس نے مقتولہ کے لواحقین کے ابتدائی انکار کے باوجود زبردستی پوسٹ مارٹم کروایا ہے، جس کی حتمی رپورٹ موت کی اصل وجوہات کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر قانونی گرفت: فلوریڈا کا اوپن اے آئی اور سیم آلٹمین کے خلاف مقدمہ

واضح رہے کہ اس سے قبل مقتولہ نے عدالت میں دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرایا تھا، جس میں اس نے مالکن کے بیٹے کو نامزد نہیں کیا تھا، جس کی بنا پر پولیس نے مالکان کو ابتدائی طور پر بے گناہ قرار دے دیا تھا۔ اب ازسرِ نو تفتیش میں ان تمام پہلوؤں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، اسقاط حمل کے لیے آپریشن کرنے والے نجی ہسپتال کے خلاف بھی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ ذمہ داران کا تعین ہو سکے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران جینڈر سیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو متعلقہ افسران کے خلاف بھی سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ لاہور پولیس اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

شانگلہ میں المناک حادثہ: مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق، ایک بچی معجزانہ طور پر محفوظ

2 تبصرے ”گھریلو ملازمہ کا اجتماعی زیادتی کے بعد اسقاط حمل کے دوران المناک انتقال، کیس میں قتل کی دفعات شامل

اپنا تبصرہ لکھیں