اسرائیل کی فلسطینی ویمن فٹبال ٹیم کی دو بین الاقوامی کھلاڑیوں کو حراست میں لینے پر شدید تشویش

فلسطین/بیت المقدس | 4 جون 2026

اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطین کی ویمن فٹبال ٹیم کی دو بین الاقوامی کھلاڑیوں، رند الحلاوانی اور نٹالی ابو دایہ کو حراست میں لینے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد کھیلوں اور انسانی حقوق کے عالمی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کو فلسطینی کھلاڑیوں کے خلاف منظم کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

گرفتاری کے واقعات
مختلف ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دونوں کھلاڑیوں کو الگ الگ کارروائیوں میں حراست میں لیا گیا:

رند الحلاوانی: انہیں مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں ایک پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا، جہاں پہنچنے کے بعد اسرائیلی حکام نے انہیں باضابطہ طور پر حراست میں لے لیا۔

نٹالی ابو دایہ: انہیں مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک یونیورسٹی کے طلبہ ہاسٹل پر اسرائیلی فورسز کی جانب سے کیے گئے چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا۔

فلسطین فٹبال ایسوسی ایشن کا ردِعمل
فلسطین فٹبال ایسوسی ایشن (PFA) نے اس کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ ایسوسی ایشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فلسطینی کھلاڑیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ کھیلوں کے عالمی اصولوں (جو کھیلوں کو سیاست سے پاک رکھنے کا تقاضا کرتے ہیں) کی بھی کھلی توہین ہے۔

ایسوسی ایشن نے فیفا (FIFA) اور دیگر متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پیشہ ور کھلاڑیوں کو ان کے کھیل کے فرائض کی انجام دہی سے روکنا اور انہیں حراست میں لینا ایک ناقابلِ قبول عمل ہے۔

عالمی برادری اور کھیلوں کی دنیا میں اثرات
اس واقعے نے پہلے سے کشیدہ خطے میں سیاسی تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ کھیلوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کھیلوں کی دنیا میں بھی ایک نیا تنازع کھڑا کر سکتا ہے، کیونکہ کھلاڑیوں کو نشانہ بنانے سے عالمی کھیلوں کے اداروں کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ فی الحال اس معاملے پر اسرائیلی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے کھلاڑیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے اس معاملے پر خاموشی توڑنے کی اپیل کی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں