یاگون (ویب ڈیسک) — 16 جولائی 2026
میانمار کے ساحل کے قریب ایک انتہائی دل دہلا دینے والا اور ہولناک سانحہ پیش آیا ہے، جہاں 500 سے زائد تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کو لے جانے والی دو کشتیاں کھلے سمندر میں توازن برقرار نہ رکھ پانے کے باعث الٹ گئیں۔ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق اور پناہ گزینوں سے متعلقہ ایجنسیوں کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی معلومات کے مطابق، کشتیوں میں سوار تمام افراد کے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو جانے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ پناہ گزین میانمار کے جنگ زدہ حالات سے تنگ آ کر اپنی جانیں بچانے اور محفوظ مستقبل کی تلاش میں اس انتہائی خطرناک سمندری سفر پر نکلے تھے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) اور اقوامِ متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی (UNHCR) نے ایک مشترکہ تشویشناک بیان میں بتایا کہ ابتدائی اکھٹی کی گئی معلومات کے مطابق، یہ دونوں غیر محفوظ کشتیاں جون کے آخر میں میانمار کی ریاست راکھین (Rakhine) سے روانہ ہوئی تھیں، جن میں سوار افراد کی اکثریت مظلوم روہنگیا مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ رپورٹس کے مطابق، ان مسافروں میں کچھ ایسے افراد بھی شامل تھے جو بنگلہ دیش کے کاکس بازار (Cox’s Bazar) میں قائم دنیا کے سب سے بڑے پناہ گزین کیمپوں کی کسمپرسی کی زندگی سے تنگ آ کر بہتر زندگی کے حصول کے لیے غیر قانونی انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھے تھے۔
اگرچہ سمندر میں پیش آنے والے اس المناک واقعے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے حتمی اعداد و شمار کی ابھی تک کسی بھی حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے، لیکن یو این ایچ سی آر اور آئی او ایم نے اتنے بڑے پیمانے پر ممکنہ جانی نقصان پر گہرے رنج و غم اور شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کو میانمار میں مسلسل تشدد اور بنگلہ دیشی کیمپوں میں بنیادی انسانی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے وہ ہر سال سمندر کی بے رحم موجوں کے رحم و کرم پر طویل اور کٹھن سفر اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
