بھارت میں جاری مون سون بارشوں نے ایک بار پھر تباہی کی خوفناک تصویر پیش کر دی ہے جہاں شدید بارش، کلاؤڈ برسٹ، لینڈ سلائیڈنگ اور طوفانی سیلاب نے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق صرف ایک ہی دن میں کم از کم 26 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مختلف ریاستوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے اور متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق موسمی صورتحال بدستور خطرناک ہے اور آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی جا رہی ہے جس سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں مقبوضہ کشمیر، ناگالینڈ اور اتراکھنڈ شامل ہیں جہاں بارشوں نے نظامِ زندگی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متعدد افراد ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں مسلسل لینڈ سلائیڈنگ کے باعث دشواریوں کا سامنا کرتے ہوئے لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ راجوری اور پونچھ جیسے اضلاع میں کلاؤڈ برسٹ نے تباہی مچا دی، جہاں اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے سڑکیں بہا دیں، مکانات کو نقصان پہنچایا اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئیں۔ مقامی آبادی خوف و ہراس کا شکار ہے جبکہ کئی خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔
ادھر ناگالینڈ اور اتراکھنڈ میں بھی شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں اہم شاہراہیں بند ہو چکی ہیں اور دور دراز علاقوں کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں تاہم خراب موسم اور دشوار گزار راستے ریسکیو ٹیموں کے لیے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اس قسم کے شدید واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے لیے بہتر منصوبہ بندی اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ حکومت کی جانب سے متاثرین کی مدد کے لیے امدادی پیکجز کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
