لاہور ویب ڈیسک | 4 جون 2026
لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 18 سالہ گھریلو ملازمہ عائشہ کی مبینہ گینگ ریپ اور اسقاطِ حمل کے بعد ہلاکت کا کیس ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکوک موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ کیس کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے اسے ‘ہائی پروفائل’ قرار دیتے ہوئے تفتیشی افسر کو مکمل ریکارڈ کے ساتھ طلب کر لیا ہے۔ اس کیس میں سب سے اہم پیش رفت مقتولہ کے والد کے مسلسل متضاد بیانات ہیں، جنہوں نے کیس کی شفافیت اور رخ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
گھریلو ملازمہ کا اجتماعی زیادتی کے بعد اسقاط حمل کے دوران المناک انتقال، کیس میں قتل کی دفعات شامل
والد کا یوٹرن اور بڑھتا ہوا ابہام
پولیس ذرائع کے مطابق مقتولہ کے والد نے اپنی بیٹی کے انتقال کے بعد کیس کے حوالے سے بار بار اپنا مؤقف تبدیل کیا ہے۔ تازہ ترین صورتحال میں انہوں نے اپنی بیٹی کے اس عدالتی بیان سے بھی ‘یوٹرن’ لے لیا ہے جس میں اس نے مالکان کو بے گناہ قرار دیا تھا۔ والد کا اب یہ دعویٰ ہے کہ بیٹی کا وہ بیان دباؤ میں دیا گیا تھا اور معاملے کی ازسرِ نو تفتیش کی جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ والد کا یہ بار بار بدلتا ہوا مؤقف تفتیش میں شدید الجھن اور شک کا باعث بن رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ٹرمپ کے تحفے میں دیے گئے جوتے سوشل میڈیا پر وائرل
مقتولہ کا آخری ویڈیو بیان
پولیس نے مقتولہ کا ایک اہم ویڈیو بیان بھی میڈیا اور عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا ہے، جو اس کی وفات سے قبل ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس ویڈیو میں عائشہ نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ:زیادتی کا عمل صرف ڈرائیور حسن نے کیا ہے۔مالکان اس واقعے میں ملوث نہیں ہیں اور انہیں بلاوجہ اس کیس میں ملوث کیا جا رہا ہے۔ڈرائیور حسن اسے نیند کی گولیاں دے کر زیادتی کا نشانہ بناتا رہا اور اسی نے اسے مالکان کا نام لینے پر مجبور کیا تھا۔یہ وہی مؤقف ہے جو مقتولہ نے اپنی موت سے قبل عدالت میں دفعہ 164 کے تحت تحریری طور پر بھی ریکارڈ کروایا تھا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ ساز تیزی، انڈیکس 1 لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا
قانونی کارروائی اور تفتیش کا دائرہ کار
پراسکیوشن ڈیپارٹمنٹ نے اب اس کیس میں شامل دفعات، خاص طور پر قتل (دفعہ 302) کی شمولیت اور دیگر شواہد کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق:کیس کی تفتیش اب جینڈر سیل سے انویسٹی گیشن ونگ کو منتقل کر دی گئی ہے۔عدالت سے اجازت ملنے کے بعد اب قتل کی دفعات کے تحت تفتیش کو مزید گہرائی سے مکمل کیا جائے گا۔اسقاطِ حمل کرنے والے نجی ہسپتال کے کردار کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔پولیس کا یہ کہنا ہے کہ والد کے متضاد بیانات کے باعث کیس کے تمام پہلوؤں کو باریک بینی سے جانچا جائے گا تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ پراسکیوٹر جنرل پنجاب کی جانب سے تفتیشی افسر کو طلب کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اس معاملے کو کسی بھی غفلت کے بغیر حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
”18 سالہ گھریلو ملازمہ عائشہ کی مبینہ گینگ ریپ اور اسقاطِ حمل کے بعد ہلاکت کا کیس ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکوک موڑ پر پہنچ گیا“ ایک تبصرہ