تہران (ویب ڈیسک) 10 جون 2026
مشرقِ وسطیٰ کے نازک حالات میں ایک اور دھماکہ خیز پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ میزائل حملے جنوبی ایران میں امریکی کارروائیوں کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔ ایرانی میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیوز میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو لانچ ہوتے اور اہداف کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس نے عالمی طاقتوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
💥 Explosions have been reported following Iran’s ballistic missile attacks toward US bases in Bahrain pic.twitter.com/hLBR9Zcdb7
— Anadolu English (@anadoluagency) June 10, 2026
میزائل حملوں کی تفصیلات اور اہداف
ایرانی فوجی ذرائع کے مطابق، ان حملوں میں ایران کے جدید ترین طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سسٹم، جن میں ‘قدر’، ‘عماد’ اور ‘خیبر شکن’ شامل ہیں، کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ان میزائلوں کے ذریعے بحرین اور اردن میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ یہ کارروائی ان کے دفاعی حق کے تحت کی گئی ہے اور وہ اپنی سرزمین یا مفادات پر ہونے والے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔
امریکا اور عالمی ردِعمل
امریکی حکام کی جانب سے تاحال ان حملوں کی نوعیت اور نقصانات کے حوالے سے کوئی حتمی تصدیق یا تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ تاہم، وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کی جانب سے صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کریں۔ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ یہ کشیدگی کسی بڑے علاقائی تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی سیاست اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کریں گے۔
Footage shows the firing of Qadr, Emad, and Kheibar Shekan long-range solid and liquid-fuel missiles at American targets in the region, responding to Wednesday morning’s attack. pic.twitter.com/3BQ8C3Jbuo
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) June 10, 2026
مستقبل کے خدشات
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ واقعات نے خطے کی سکیورٹی صورتحال کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایران نے پہلے ہی خبردار کر رکھا ہے کہ اگر امریکا نے اپنی فوجی کارروائیاں بند نہ کیں تو مزید سخت اور بڑے پیمانے پر ردِعمل دیا جائے گا۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں مشرقِ وسطیٰ پر لگی ہوئی ہیں، جہاں سفارت کاری اور جنگ کے درمیان ایک باریک لکیر رہ گئی ہے۔ کیا دونوں ممالک اس صورتحال کو سفارتی طریقے سے حل کریں گے یا یہ کشیدگی ایک باقاعدہ جنگ کی شکل اختیار کر لے گی، یہ آنے والے کچھ دن طے کریں گے۔