واشنگٹن (ویب ڈیسک) 10 جون 2026
دنیا کی معروف ترین کاروباری شخصیت اور مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس ایک بار پھر بدنامِ زمانہ جنسی اسکینڈل ریکٹ کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنے پرانے تعلقات کے باعث امریکی کانگریس کی ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہو گئے ہیں۔ بند کمرے میں ہونے والے اس اجلاس میں کانگریس کے ارکان نے بل گیٹس سے اُن کے اور ایپسٹین کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں، فون کالز اور عشائیوں کے حوالے سے سخت سوالات کیے۔
تحقیقات کا محور کیا ہے؟
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری ہونے والی 3 ملین سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات میں بل گیٹس کا نام سیکڑوں بار سامنے آیا ہے، جس میں ایپسٹین کی 2008 میں سزا پانے کے بعد بھی بل گیٹس کے ساتھ ان کے رابطوں کی تفصیلات موجود ہیں۔ ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے چیئرمین جیمز کومر نے واضح کیا ہے کہ وہ بل گیٹس پر براہِ راست کسی غلط کام کا الزام نہیں لگا رہے، لیکن کمیٹی یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ:
گیٹس اور ایپسٹین کے روابط کی نوعیت کیا تھی؟
کیا گیٹس کو ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم تھا؟
کیا انہوں نے کوئی مشتبہ سرگرمی دیکھی تھی جسے رپورٹ نہیں کیا گیا؟
بل گیٹس کا موقف اور دفاع
کیپیٹل ہل آمد پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بل گیٹس نے کہا کہ وہ تحقیقات میں معاونت کے لیے رضاکارانہ طور پر پیش ہوئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی گواہی متاثرین کو انصاف دلانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ یاد رہے کہ دستاویزات میں 2013 کے کچھ مسودہ ای میلز بھی شامل ہیں جن میں بل گیٹس کے بارے میں کچھ سنگین نوعیت کے ذاتی الزامات لگائے گئے تھے۔ بل گیٹس نے ان تمام دعوؤں کو “مضحکہ خیز اور سراسر جھوٹ” قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کیا ہے۔ ان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گیٹس نے کبھی ایپسٹین کے نجی جزیرے کا دورہ نہیں کیا اور نہ ہی وہ کسی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ رہے۔
ماضی کی غلطی پر اظہارِ افسوس
بل گیٹس ماضی میں بھی کئی بار اعتراف کر چکے ہیں کہ جیفری ایپسٹین کے ساتھ وقت گزارنا ان کی زندگی کی ایک “بڑی غلطی” تھی اور انہیں ان ملاقاتوں پر گہرا افسوس ہے۔ کانگریس کی یہ تحقیقات اس بات کا تعین کرنے کے لیے اہم ہیں کہ آیا ایپسٹین کے نیٹ ورک میں بااثر شخصیات کا کردار کس حد تک رہا۔ اگرچہ اب تک بل گیٹس پر کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا، لیکن یہ پیشی ان کی ساکھ اور عوامی زندگی کے لیے ایک بڑا امتحان سمجھی جا رہی ہے۔