اداکارہ مومنہ اقبال اور رمشا اقبال کو دھمکیاں، پنجاب بار کونسل میں اہم سماعت

لاہور (ویب ڈیسک) 10 جون 2026

اداکارہ مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اور ان کی بہن کو مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور نامعلوم افراد ان کے گھروں کے باہر گاڑیاں بھیج کر انہیں ہراساں کر رہے ہیں۔ پنجاب بار کونسل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رمشا اقبال نے بتایا کہ پرسوں مومنہ کے سسرال اور رات کو ان کے اپنے گھر کے باہر نامعلوم افراد کی گاڑیاں بھیجی گئیں، جس کی اطلاع فوری طور پر تھانہ چوہنگ پولیس کو دے دی گئی ہے۔

“بہادری سے مقابلہ کریں گی”
رمشا اقبال نے اپنے اوپر اور اپنی بہن پر لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹ قرار دیا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ ان جھوٹی درخواستوں اور دھمکیوں کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کریں گی اور اپنی بہن کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اور مومنہ کو مختلف طریقوں سے دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن وہ خوفزدہ نہیں ہوں گی۔

پنجاب بار کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی کی سماعت
پنجاب بار کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی نے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے وکیل میاں علی اشفاق اور رمشا اقبال کے لائسنس معطل کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔ چیئرمین ڈسپلنری کمیٹی عباس علی چدھڑ کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی نے اہم احکامات جاری کیے:میڈیا پر پابندی: کمیٹی نے فریقین کے تمام وکلا کو ہدایت کی کہ وہ اس کیس سے متعلق کسی بھی قسم کی میڈیا گفتگو سے گریز کریں۔ڈگری کی طلبی: کمیٹی نے میاں علی اشفاق سے استفسار کیا کہ کیا وہ بیرسٹر ہیں؟ اور انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنی ‘بار ایٹ لا’ (Bar-at-Law) کی ڈگری کونسل میں پیش کریں۔

اداکارہ مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ تنازعہ: قانونی جنگ کا نیا موڑ، 80 لاکھ کی مبینہ امانت میں خیانت کا مقدمہ!

ملازمت کا معاملہ: رمشا اقبال سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے آسٹریلیا میں دورانِ ملازمت پنجاب بار کو آگاہ کیا تھا؟ کیونکہ قانون کے مطابق وکیل ملازمت نہیں کر سکتا۔ رمشا اقبال نے جواب دیا کہ وہ وہاں تعلیم حاصل کر رہی تھیں اور اس دوران اضافی گھنٹوں میں کام کیا، جبکہ یونیفارم پہن کر انٹرویو دینے کے سوال پر انہوں نے 6 سے 7 انٹرویو کا اعتراف کیا۔وکلا کی انا کا مسئلہ: کمیٹی چیئرمین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو پرائیوٹ افراد کی لڑائی کو وکلا نے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے، جو کہ افسوسناک ہے۔رمشا اقبال نے اپنے اوپر ملازمت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ثبوت ہے تو پیش کیا جائے۔ ڈسپلنری کمیٹی نے معاملے کی مزید جانچ پڑتال کا حکم دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں