بھارتی اداکارہ عائشہ خان ممبئی میں گرفتار: طالب علموں کے احتجاج میں شرکت مہنگی پڑ گئی؟

بالی ووڈ انڈسٹری کی معروف اداکارہ عائشہ خان (جنہیں دھُرندھر سے شہرت ملی) کو ممبئی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ ان کی گرفتاری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس کے بعد شوبز انڈسٹری اور مداحوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
خبروں کے مطابق، عائشہ خان ممبئی میں ‘نیٹ’ (NEET) امتحان کے امیدواروں اور طالب علموں کی حمایت کے لیے ایک پرامن احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچی تھیں۔ تاہم، وہاں پہنچتے ہی پولیس نےانہیں اور ان کے ساتھیوں کو وائرل ویڈیو کے مطابق زبردستی پولیس وین میں بٹھا کر حراست میں لے لیا۔

“نہ کوئی نعرہ لگایا، نہ تقریر کی”: عائشہ خان کا بیان
حراست میں لیے جانے کے بعد عائشہ خان نے ورلی پولیس اسٹیشن (Worli Police Station) سے اپنا ویڈیو پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا:

“ہم یہاں صرف ان طلباء کے ساتھ ہمدردی اور حمایت کا اظہار کرنے آئے تھے جو پریشان ہیں اور جنہوں نے سخت حالات سے تنگ آ کر خودکشی جیسے قدم اٹھائے۔ دادار میں شام 4 بجے ایک پرامن احتجاج ہونا تھا، لیکن جیسے ہی ہم سڑک پر کھڑے ہوئے، پولیس نے ہمیں روک دیا۔”
عائشہ خان کا مزید کہنا تھا:

انہوں نے نہ تو کوئی نعرہ لگایا اور نہ ہی کوئی تقریر کی تھی۔
بغیر کسی گفتگو کا موقع دیے، پولیس اہلکاروں نے ان کے بھائی اور دوست کو زبردستی وین میں ڈال دیا۔
تقریباً 15 پولیس اہلکاروں نے انہیں گھیر لیا اور وین میں بیٹھنے پر مجبور کیا۔
بار بار پوچھنے کے باوجود کہ انہیں کس بنیاد پر حراست میں لیا جا رہا ہے، پولیس کی جانب سے کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔
سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آتے ہی صارفین اور شوبز شخصیات کی جانب سے ممبئی پولیس کے اس رویے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ایک پرامن شہری اور اداکارہ کے ساتھ ایسا سلوک جمہوری قدروں کے منافی ہے۔

عائشہ خان کی گرفتاری نے بھارت میں طلباء کے مطالبات اور تعلیمی اصلاحات پر اٹھنے والے احتجاج کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ممبئی پولیس اس معاملے پر کیا موقف اختیار کرتی ہے اور کیا عائشہ خان کو باقاعدہ قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا یا نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں