ایران پر حملہ مؤخر، عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ،تیل مارکیٹ میں‌ہل چل

ویب ڈیسک (12 جون 2026)

امریکا کی جانب سے ایران پر مجوزہ فوجی کارروائی مؤخر کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس سے عالمی توانائی کی مارکیٹوں میں پھیلی ہوئی بے چینی ختم ہو گئی ہے اور سرمایہ کاروں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملہ نہ کرنے کے فیصلے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز بھی گراوٹ کا رحجان رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خطرات کم ہونے سے عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام پیدا ہوا ہے۔تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت میں 1.21 ڈالر یعنی 1.3 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد یہ 89.17 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 1.23 ڈالر یا 1.4 فیصد کمی کے ساتھ 86.48 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

ہفتہ وار بنیادوں پر بھی دونوں اہم عالمی بینچ مارکس خسارے میں رہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 4.2 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 4.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو شدید خدشہ تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کے اہم راستوں کو بند کر سکتا ہے، تاہم حملہ مؤخر ہونے کے بعد مارکیٹ نے فوری مثبت ردعمل دیا ہے۔ماہرینِ معاشیات کے مطابق آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا تعین ایران، امریکا اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ہوگا۔ سرمایہ کار اس وقت سفارتی پیش رفت اور ممکنہ مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر کشیدگی میں مزید کمی آتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں استحکام کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جس سے عالمی مہنگائی کے دباؤ کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں