ٹرمپ کے ایران پر حملے روکنے کے اعلان سے عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی

واشنگٹن (ویب ڈیسک) 12 جون 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مجوزہ فوجی کارروائی روکنے اور تہران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کا عندیہ دینے کے بعد دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی کی لہر دوڑ گئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کر دیا ہے۔ عالمی تناؤ میں کمی کے اس اعلان نے نہ صرف امریکی بلکہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص بازاروں میں بھی خوشی کی لہر پیدا کر دی ہے۔

وال اسٹریٹ میں تاریخی اضافہ
امریکی اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ وال اسٹریٹ کے اہم انڈیکس ایس اینڈ پی 500 میں تقریباً 1.8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جسے اپریل کے بعد ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مشتمل نیسڈیک انڈیکس 2.5 فیصد جبکہ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج تقریباً 1.9 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا ہے۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں نے طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی امید پر بھرپور خریداری کی ہے۔

ایشیا پیسیفک مارکیٹوں میں مثبت رجحان
امریکی منڈیوں کے مثبت اثرات ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں پر بھی واضح نظر آ رہے ہیں۔ جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، ہانگ کانگ اور آسٹریلیا کے شیئر بازاروں میں سرمایہ کاروں نے زبردست سرگرمی دکھائی ہے۔ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس صبح کے کاروبار کے دوران 8 فیصد سے زائد بڑھ گیا، جبکہ جاپان کا نکی 225 انڈیکس 4 فیصد تک اوپر چلا گیا۔ تائیوان کے ٹی اے آئی ای ایکس انڈیکس میں 2.4 فیصد، آسٹریلیا کے اے ایس ایکس 200 انڈیکس میں تقریباً 1.8 فیصد اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس بھی ایک فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔

تیل کی قیمتوں میں کمی اور امن کی امید
اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً ایک فیصد کم ہو کر 89.50 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کمی کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہونے اور تیل کی بین الاقوامی ترسیل معمول پر آنے کی امید ہے۔

امریکا-ایران امن معاہدہ: اہم پیش رفت
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق ایک اہم معاہدہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور اس پر جلد دستخط متوقع ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دستاویزات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو معاہدہ اسی ہفتے کے آخر میں طے پا سکتا ہے۔ اگرچہ ایران نے تاحال اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اعتراف کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت زیرِ غور ہے اور مشاورت جاری ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ کامیابی سے طے پا جاتا ہے تو آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال ہو جائے گی، جس سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں مزید استحکام آئے گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں