کراچی (کرائم رپورٹر) 12 جون 2026
کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں ایک بڑی ڈکیتی کی واردات کے دوران سیکیورٹی کمپنی کی کیش وین سے 30 کروڑ روپے لوٹ لیے گئے ہیں۔ انتہائی منصوبہ بندی کے تحت کی گئی اس واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ نے سیکیورٹی کمپنی کے اندرونی عملے کے کردار کو مشکوک قرار دے دیا ہے۔ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر عمران خان کے مطابق، کیش وین طارق روڈ سے ایک نجی بینک میں رقم پہنچانے کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ راستے میں رضوان پارک کے قریب عملہ چائے پینے کے لیے رکا تو اسی دوران چار ملزمان موقع پر پہنچے اور کیش وین کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ ملزمان نے انتہائی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وین کو الطاف پکوان والی گلی میں منتقل کیا، جہاں رقم سے بھرے تھیلے ایک دوسری گاڑی میں منتقل کیے گئے اور وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس کو تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ملزمان نے واردات سے قبل اپنی گاڑی ایک قریبی پچھلی گلی میں پارک کی تھی اور پیدل چل کر موقع پر پہنچے تھے۔
ابتدائی تحقیقات میں سیکیورٹی کمپنی کے چیف کریو ’واجد‘ کا کردار مرکزی مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق واجد نے کیش کیبن کی چابیاں گارڈز سے حاصل کی تھیں اور مبینہ طور پر ملزمان کو رقم تک رسائی فراہم کی۔ واردات کے بعد چیف کریو واجد بھی دیگر ملزمان کے ہمراہ فرار ہوگیا ہے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی جوہرآباد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا۔ ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر عمران خان نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور متعلقہ افسران کو فوری اور مؤثر کارروائی کی ہدایات جاری کیں۔ پولیس اب اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور ان کے فرار ہونے کے راستوں کا سراغ لگا رہی ہے، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے بھی اس سنگین واردات کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی سینٹرل سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیر داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیش وین ڈکیتی کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر نیٹ ورک کو جلد بے نقاب کر دیا جائے گا۔