صومالی قزاقوں کی قید میں موجود پاکستانیوں کی نئی ویڈیو منظر عام پر، رہائی کے لیے اپیل

کراچی (ویب ڈیسک) 12 جون 2026

صومالی قزاقوں کی قید میں موجود پاکستانی اور انڈونیشیائی یرغمالیوں کو اپنے گھر سے دور کسمپرسی کی حالت میں 50 دن مکمل ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر جہاز کے عملے کی جانب سے ایک نئی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ان کی حالت زار اور حکومتی مداخلت کی التجا صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ویڈیو میں سامنے آنے والے ہوشربا انکشافات،یہ نئی ویڈیو یرغمالیوں کو جہاز کے ڈیک پر لا کر بنائی گئی ہے جس کے پس منظر میں گہرا سمندر دکھائی دے رہا ہے۔ ویڈیو میں یرغمالیوں نے حکومتِ پاکستان اور انڈونیشیا سے فوری مداخلت اور اپنی زندگیوں کو بچانے کے لیے عملی اقدامات کی اپیل کی ہے۔ یرغمالیوں کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی اذیت ناک حالات میں ہیں جہاں بنیادی انسانی ضروریات تک میسر نہیں۔

خوراک اور پانی کا سنگین بحران
عملے نے اپنی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ انہیں خوراک کے طور پر صرف سادہ چاول دیے جاتے ہیں اور کئی بار قزاقوں کے سامنے کھانے کے لیے ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں۔ صاف پانی کی شدید قلت ہے جبکہ روزانہ فائرنگ کی آوازیں ان کی ذہنی کیفیت کو مزید خراب کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عملے کے کئی افراد بیمار پڑ چکے ہیں مگر مناسب طبی سہولیات اور ادویات نہ ہونے کے باعث وہ تڑپ رہے ہیں۔یرغمالیوں نے اپنی جہاز رانی کمپنی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے اب تک قزاقوں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنے کے بجائے معاملہ “عثمان” نامی ایک ایسے تیسرے شخص کے سپرد کر رکھا ہے جسے قزاق تسلیم ہی نہیں کرتے۔ یرغمالیوں کا واضح مطالبہ ہے کہ کمپنی کے اصل نمائندے آگے آئیں اور قزاقوں سے بات چیت کریں تاکہ ان کی رہائی کا راستہ ہموار ہو سکے۔

وقت تیزی سے گزر رہا ہے
ویڈیو کے آخر میں یرغمالیوں نے خبردار کیا ہے کہ ایک ہفتے بعد ان کی قید کو دو ماہ مکمل ہو جائیں گے اور اگر فوری مدد نہ ملی تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ یہ پاکستانی شہری اس وقت موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہیں اور پوری قوم ان کی بحفاظت واپسی کے لیے دعا گو ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں