کراچی (ویب ڈیسک) 29 جون 2026
پاکستان کے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں ایک ایسا انوکھا اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جس نے روایتی خاندانی نظام اور مسلم عائلی قوانین کے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ایک خاتون نے اپنے گھر والوں اور معاشرے سے چھپ کر بیک وقت دو مختلف مردوں سے باقاعدہ نکاح کر رکھا تھا اور حیرت انگیز طور پر دونوں شوہر کئی سال تک ایک دوسرے کے وجود اور اس خفیہ حقیقت سے بالکل بے خبر رہے۔ یہ سنسنی خیز معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ایک اتفاقی ملاقات اور نجی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے دوران دونوں مردوں پر یہ انکشاف ہوا کہ وہ دونوں ایک ہی خاتون کے عقد میں ہیں۔ اس عجیب و غریب حقیقت نے دونوں خاندانوں میں یکدم کہرام مچا دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔
عام طور پر پاکستانی معاشرے میں جب ایسے خاندانی تنازعات یا دھوکہ دہی کے کیسز سامنے آتے ہیں، تو معاملہ فوری طور پر شدید لڑائی جھگڑے، تھانے کچہری، اقدامِ قتل یا طویل قانونی جنگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ تاہم، اس مخصوص واقعے میں اس وقت ایک انتہائی غیر متوقع موڑ دیکھنے کو ملا جب روایتی ردِعمل کے برعکس تینوں مرکزی فریقین نے آپس میں بیٹھ کر اس سنگین مسئلے پر بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا۔ شدید غصے، تلخیوں اور ابتدائی گھریلو ناراضی کے بعد، دونوں شوہروں اور خاتون نے معاملے کو پولیس یا عدالت میں لے جا کر اچھالنے کے بجائے باہمی بیٹھک کی اور ایک ایسا حیران کن فیصلہ کیا جس پر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ انہوں نے باہمی رضامندی کے ساتھ کسی بھی قسم کے تصادم سے بچنے کے لیے ایک ساتھ رہنے کا معاہدہ کر لیا۔

اس خبر کے سامنے آنے کے بعد ملک بھر کے سنجیدہ حلقوں، ماہرینِ قانون اور مذہبی اسکالرز کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے اور اس واقعے نے نکاح کے تقدس اور خاندانی نظام سے متعلق کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ شرعی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلامی شریعت اور پاکستان کے مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے تحت ایک وقت میں ایک خاتون کا دو مردوں کے نکاح میں رہنا (Polyandry) قطعاً باطل، ناجائز اور سنگین جرم ہے۔ قانون کے مطابق، پہلی شادی کی موجودگی میں دوسرا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا، اس لیے اس نوعیت کے ‘گھریلو سمجھوتے’ کی قانونِ ریاست اور شریعتِ محمدیؐ کے سامنے کوئی قانونی یا اخلاقی حیثیت نہیں ہے اور یہ سیدھا جعل سازی کا کیس بنتا ہے۔
سماجی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ واقعہ سو فیصد درست ہے، تو اس کے معاشرے پر انتہائی ہولناک اور منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر بچوں کے نسب (Paternity) اور مستقبل میں وراثت کے حقوق کے حوالے سے ایسے گھناؤنے سمجھوتے سنگین ترین پیچیدگیاں پیدا کریں گے۔ عوامی سطح پر یہ پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی تحقیقاتی اداروں کو اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ نکاح خواں، یونین کونسل کے ریکارڈ اور فریقین کے بیانات کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرنی چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ دستاویزات میں اتنی بڑی ہیرا پھیری کیسے کی گئی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ خاندانی نظام کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ناگزیر ہے۔
