کراچی (ویب ڈیسک) 6 جولائی 2026
پاکستان کے مایہ ناز بزنس ٹائیکون اور پی آئی اے کو خریدنے والے کنسورشیم کے سربراہ عارف حبیب نے قومی ایئر لائن کے مستقبل کے حوالے سے بڑا اور سنسنی خیز دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجکاری کے عمل کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) پہلے ہی سال ایک خسارے کے بجائے منافع بخش ادارہ بن جائے گا۔ ایکسپریس سے خصوصی اور خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پی آئی اے کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے اور دنیا بھر میں اس کا کھویا ہوا مقام بحال کرنے کے لیے اپنے طویل مدتی انقلابی منصوبے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
عارف حبیب نے کاروباری حکمتِ عملی واضح کرتے ہوئے کہا کہ اب پی آئی اے میں اقربا پروری یا سیاسی دباؤ کے تحت فیصلے نہیں ہوں گے، بلکہ ایئر لائن کی پروازیں صرف اور صرف ان بین الاقوامی اور مقامی روٹس پر چلائی جائیں گی جو تجارتی بنیادوں پر منافع بخش (Profitable) ہوں گی، کسی بھی روٹ کو اب ڈونیشن یا خیرات کی بنیاد پر نہیں چلایا جائے گا۔ انہوں نے نجکاری کے مالیاتی معاہدے پر اہم معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ کنسورشیم کی جانب سے پی آئی اے کے 66 فیصد حصص (Shares) کی بھاری ادائیگی مکمل کر دی گئی ہے، جبکہ بقیہ 34 فیصد حصص کی رقم اگلے ایک سال کے اندر ادا کر دی جائے گی۔
ایئر لائن کے ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری سناتے ہوئے عارف حبیب نے واضح کیا کہ طے شدہ معاہدے کے تحت اگلے ایک سال تک پی آئی اے کے کسی بھی چھوٹے یا بڑے ملازم کو نوکری سے بالکل نہیں نکالا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے کو پروفیشنل انداز میں چلانے کے لیے سینیئر اور کلیدی عہدوں پر میرٹ کے تحت نئی بھرتیاں تیزی سے جاری ہیں، جنہیں آئندہ ایک سے ڈیڑھ ماہ کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں اس وقت صرف 19 فعال جہاز ہیں، لیکن ہمارا ہدف ہے کہ اگلے 5 سالوں میں اس تعداد کو بڑھا کر 60 جہازوں تک لے جایا جائے، اور جیسے جیسے جہاز بڑھیں گے، پی آئی اے میں روزگار کے نئے مواقع اور ملازمین کی تعداد بھی خودبخود بڑھائی جائے گی۔
معروف صنعت کار نے بتایا کہ پی آئی اے کے موجودہ بیڑے میں 4 سے 5 طیارے ایسے ہیں جو معمولی خرابی کے باعث گراؤنڈ ہیں، جنہیں فوری مرمت کر کے دوبارہ آپریشنل کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، اسی سال بیڑے میں 5 بالکل نئے جہاز شامل کیے جائیں گے اور یہ سلسلہ ہر سال برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے کراچی ایئرپورٹ پر موجود پی آئی اے کی انجینئرنگ فیسیلٹی (Engineering Facility) کو ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ کراچی کے اس انجینئرنگ شعبے کو جدید بنانے کے لیے ایک بہت بڑی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ طیاروں کی اوور ہالنگ ملکی سطح پر عالمی معیار کے مطابق کی جا سکے۔
