اسٹیٹ بینک کی بڑی پیش گوئی: رواں مالی سال 41 ارب ڈالر سے زائد کی تاریخی ترسیلاتِ زر کا امکان!

کراچی (ویب ڈیسک) 3 جولائی 2026

گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے ملکی معیشت کے حوالے سے انتہائی اہم اور بڑی خوش خبری سناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ (Middle East) کی کشیدہ صورتِ حال اور تمام تر بیرونی چیلنجز کے باوجود بیرونِ ملک مقیم اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر (Remittances) مکمل طور پر مستحکم ہیں اور رواں مالی سال ان کا حجم 41 ارب ڈالر سے زائد رہنے کا قوی امکان ہے۔ کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے مڈل ایسٹ کے حالات کے باعث ترسیلات میں ایک ارب ڈالر کمی کا خدشہ ظاہر کیا تھا، لیکن سمندر پار پاکستانیوں نے ریکارڈ رقوم بھیج کر ان اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔

پریس کانفرنس کے دوران گورنر اسٹیٹ بینک نے ویزا اور سبسڈی کے حوالے سے ایک بڑی پالیسی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب ترسیلاتِ زر کو حکومت سبسڈائز نہیں کرے گی بلکہ یکم اور دو جولائی کو ختم کی جانے والی دو انسینٹیو اسکیموں کی جگہ اب کمرشل بینک یہ پورا خرچہ خود برداشت کریں گے، جس سے بینکوں کی ٹریڈ فنانس صلاحیت بڑھے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان اسکیموں اور ‘سوہنی دھرتی اسکیم’ کے خاتمے سے اوورسیز پاکستانی بالکل متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ اسٹیٹ بینک ان کے متبادل ایک اور انتہائی شاندار اور بہتر اسکیم متعارف کرانے جا رہا ہے۔ انہوں نے حیران کن انکشاف کیا کہ ماضی کے مقابلے میں بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی ورکرز کی تعداد دگنی نہیں ہوئی (جو سالانہ 6 سے 7 لاکھ کی اوسط پر برقرار ہے) لیکن ترسیلات کا حجم 23 ارب سے اچھل کر 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔

ملکی امپورٹ اور قرضوں کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے جمیل احمد نے واضح کیا کہ اسٹیٹ بینک اپنی پالیسی کے تحت امپورٹ (درآمدات) پر کوئی پابندی یا کنٹرول نہیں لگا رہا۔ رواں مالی سال 70 ارب ڈالر کی درآمدات متوقع ہیں، جو سال 2022 کی سطح کے برابر ہیں؛ تاہم 2022 میں 17.5 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے باعث اسٹیٹ بینک کو مارکیٹ میں 8 ارب ڈالر ڈالنے پڑے تھے، جبکہ اس سال صورتِ حال اتنی شاندار ہے کہ 70 ارب ڈالر کی امپورٹ ادائیگیوں کے باوجود اسٹیٹ بینک نے خود مارکیٹ سے 8 ارب ڈالر خریدے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2015 سے 2022 کے دوران بیرونی قرضے 55 ارب سے بڑھ کر 100 ارب ڈالر تک جا پہنچے تھے، لیکن 2022 کے بعد سے ملکی بیرونی قرضوں میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں ہونے دیا گیا اور اسٹیٹ بینک نے گزشتہ 3 برسوں میں مارکیٹ سے 27 ارب ڈالر بائے بیک کیے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے ملکی برآمدات (Exports) کو پاکستان کی حقیقی لائف لائن قرار دیتے ہوئے کہا کہ تجارتی خسارے کا حل امپورٹ روکنا نہیں بلکہ ایکسپورٹ بڑھانا ہے، جس کے لیے ‘ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم’ کے حجم میں بڑا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطلع کیا کہ مالی سال 26ء میں چاول اور فوڈ سیکٹر کی عالمی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے مجموعی برآمدات پر اثر پڑا تھا لیکن نان فوڈ سیکٹر نے اچھا پرفارم کیا، اور اب عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتیں بہتر ہونے سے فوڈ ایکسپورٹ دوبارہ اٹھے گی۔ انہوں نے ہاؤسنگ فنانس اسکیم کو تاریخ کی کامیاب ترین اسکیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ 1 کروڑ روپے کے اندر خریداری کا معاہدہ لانے والوں کو بینک فوری ادائیگی کر رہے ہیں۔ آخر میں انہوں نے بتایا کہ جون میں مہنگائی کی شرح 11.8 فیصد رہی اور حکومت، سیکیورٹی اداروں و تاجروں کی مشترکہ کوششوں سے ملکی معاشی نمو برقرار ہے، جس کی بدولت پاکستان کی عالمی کریڈٹ ریٹنگ مزید بہتر ہونے کی قوی توقع ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں