راولپنڈی (ویب ڈیسک) 8 جولائی 2026
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک ہنگامی اور انتہائی اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچستان کی حالیہ سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 4 روز کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے 3 بڑے اور بزدلانہ واقعات رونما ہوئے، جن کے پیچھے براہ راست بھارت ملوث ہے کیونکہ اسے پاکستان کی خوشحالی اور عزت کسی صورت قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مفرور دہشت گردوں اور خارجیوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے دلیرانہ جوابی کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں اب تک 54 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے، جبکہ وطن عزیز کی مٹی کے دفاع اور شہریوں کی جان بچاتے ہوئے فورسز کے بہادر جوانوں اور پولیس اہلکاروں سمیت 42 قیمتی ملکی سپوتوں نے جامِ شہادت نوش کیا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ ان ملک دشمن عناصر کے مکمل خاتمے تک فورسز کا آپریشن پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا۔
عسکری ترجمان نے دہشت گردی کے ان تینوں واقعات کی ہولناک تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پہلا واقعہ 4 اور 5 جولائی کی درمیانی رات پیش آیا جہاں ‘فتنہ الخوارج’ نے معصوم مقامی آبادی کو نشانہ بنایا، جس میں 4 شہری شہید اور 6 زخمی ہوئے۔ دوسرا حملہ 6 جولائی کو منگی ڈیم زیارت کے قریب واٹر پمپنگ اسٹیشن پر تعینات پولیس چیک پوسٹ پر کیا گیا، جہاں مقامی بلوچ اور پختون پولیس جوانوں نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے 15 دہشت گردوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ تاہم، بزدل دہشت گرد بھاگتے ہوئے پولیس کے 18 جوانوں کو اغوا کر کے یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے۔ پاک فوج کے کمانڈوز اور فورسز نے فوری طور پر ان کا پیچھا کیا اور گھیرا تنگ کیا، لیکن اس آپریشن کے دوران سفاک خارجیوں نے تمام 18 اغوا کار جوانوں کو بیدردی سے شہید کر دیا، جس سے منگی ڈیم کے واقعے میں مجموعی شہداء کی تعداد 27 ہو گئی۔ تیسرا حملہ بلوچستان کی اہم شاہراہ این-25 پر جھاو کراس اور کرارو کے درمیان اس وقت ہوا جب ‘فتنۃ ہندوستان’ اور بی ایل اے کے مفرور دہشت گرد سڑک بلاک کر کے مسافروں سے بھتہ وصول کر رہے تھے، جہاں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فورسز نے 19 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا، جبکہ اس شدید لڑائی میں آرمی کے 11 نڈر جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے آخر میں دوٹوک الفاظ میں عالمی برادری اور افغان حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں میں مارے جانے والے زیادہ تر دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے ہے اور ان حملوں کے پیچھے ایک منظم اور گہرا بین الاقوامی منصوبہ ہے، جس میں افغان رجیم کی جانب سے ان مفرور دہشت گردوں کو مسلسل معاونت اور پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ منگی ڈیم جیسے اہم منصوبے، جو کوئٹہ کے عوام کو پینے کا پانی فراہم کرتا ہے، اس کو نشانہ بنانا اور عام شاہراہوں پر معصوم شہریوں کو لوٹنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ان کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کے امن کو یرغمال بنانا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پاکستان کی غیور عوام دہشت گردوں اور ان کے بھارتی سرپرستوں کے ان مذموم عزائم کو خاک میں ملا کر دم لیں گے اور بلوچستان کی دھرتی سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔
