US President Donald Trump meeting with Syrian President Ahmad al-Sharaa at a NATO summit.

🚨 مشرقِ وسطیٰ میں بڑی سیاسی ہلچل: ٹرمپ کا شام کو ‘دہشت گردی کی سرپرست ریاستوں’ کی بلیک لسٹ سے نکالنے کا اعلان!

واشنگٹن (ویب ڈیسک) 9 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی منظرنامے کو بدلنے والا ایک انتہائی غیر متوقع اور بڑا اعلان کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ امریکا بہت جلد شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں کی اپنی مخصوص بلیک لسٹ سے مستقل طور پر خارج کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ نیٹو (NATO) کے اہم سربراہی اجلاس کے موقع پر شامی صدر احمد الشرع سے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے بعد صحافیوں کے تیکھے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے شامی ہم منصب کی حکمتِ عملی کی کھل کر تعریف کی۔ امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ طویل خانہ جنگی اور بدامنی کے بعد اب شام کے اندرونی حالات کافی حد تک مستحکم اور قابو میں ہو چکے ہیں، اور اس بڑی پیش رفت کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ شام کو عالمی برادری کا دوبارہ ایک اہم حصہ تسلیم کیا جائے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، اس تاریخی فیصلے سے نہ صرف شام کی عالمی سطح پر تنہائی کا خاتمہ ہوگا بلکہ جنگ سے تباہ حال ملک میں بین الاقوامی سرمایہ کاری اور معاشی بحالی کی نئی راہیں بھی ہموار ہوں گی، جس کے لیے امریکا نے پہلے ہی شام پر عائد متعدد کڑی اقتصادی پابندیوں کو مرحلہ وار ختم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

عالمی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکی صدر کے اس اہم ترین پالیسی شفٹ کے پیچھے خطے میں ایران اور اس کے مسلح اتحادیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کا ایک بہت بڑا عسکری و سیاسی ایجنڈا چھپا ہوا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن کی نئی حکمتِ عملی کا کھل کر پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ شام اب خطے میں امن و استحکام قائم کرنے کے لیے ایک انتہائی کلیدی اور اہم ترین کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ شام کا نیا سیاسی نظام پڑوسی ملک لبنان میں ایران نواز عسکری تنظیم ‘حزب اللہ’ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، ہتھیاروں کی سپلائی اور مالی طاقت کو مکمل طور پر محدود کرنے میں امریکا اور مغرب کے لیے سب سے بڑا معاون اور اتحادی ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکا یہ سمجھتا ہے کہ اگر دمشق اور بیروت کے درمیان حزب اللہ کی سپلائی لائنز کو کاٹ دیا جائے تو خطے میں اسرائیل کے خلاف جاری مزاحمت کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کی امید ظاہر کی اور کہا کہ اگر خطے میں حالات اسی مثبت سمت میں آگے بڑھتے رہے اور شام نے حزب اللہ کے خلاف اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا، تو وہ دن دور نہیں جب اسرائیل بھی لبنان کی سرزمین سے اپنی جارحیت بند کر کے اپنی فوجیں واپس بلا لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور فضائی حملوں میں کمی آنا دونوں ممالک کے معاشی اور تزویراتی مفاد میں ہے، اور اس پورے عمل کو ممکن بنانے کے لیے شام کو بلیک لسٹ سے نکالنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ جرات مندانہ بیان شام اور امریکا کے درمیان دہائیوں پر محیط دشمنی اور سفارتی بائیکاٹ کے بعد ایک نئے دور کا آغاز سمجھا جا رہا ہے، جس پر اب عالمی دنیا، خاص طور پر ایران اور روس کی گہری نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں