واشنگٹن (ویب ڈیسک) 10 جولائی 2026
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری براہ راست عسکری تصادم اور خلیج میں میزائلوں کی برسات کے بیچ ایک اور سنسنی خیز اور ہائی پروفائل انکشاف سامنے آیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے حالیہ دنوں میں واشنگٹن کو انتہائی حساس اور نئی خفیہ معلومات (Intelligence Share) فراہم کی ہیں، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے اور انہیں قتل کرنے کے ایک نئے، مخصوص اور انتہائی منظم ایرانی منصوبے کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ (CNN) نے سینیئر باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اگرچہ امریکی سیکیورٹی حکام کو کافی عرصے سے صدر ٹرمپ کے خلاف ممکنہ خطرات اور حملوں سے متعلق الرٹس موصول ہوتے رہے ہیں، تاہم اسرائیل کی جانب سے دی جانے والی حالیہ معلومات کسی پرانے خطرے کا تسلسل نہیں بلکہ ایک بالکل نئے اور مخصوص نیٹ ورک کے منصوبے سے متعلق ہیں، جس نے امریکی خفیہ ایجنسیوں کی دوڑیں لگوا دی ہیں۔
نامور امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اعلیٰ سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نے باقاعدہ شواہد کے ساتھ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کو صدر ٹرمپ کے خلاف بننے والے اس مبینہ منصوبے کی حساس کڑیاں فراہم کی ہیں۔ یہ ہوشربا رپورٹس ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آئی ہیں جب خلیج فارس میں دونوں ممالک کے درمیان شدید فضائی اور بحری جنگ چھڑی ہوئی ہے اور ایران نے حال ہی میں بحرین و کویت میں امریکی اڈوں پر میزائل داغے ہیں۔ اسی کشیدگی کے باعث نیٹو (NATO) سربراہی اجلاس کے بعد صدر ٹرمپ کی ترکیہ سے اچانک روانگی اور معمول کے بجائے ایک بالکل مختلف اور انتہائی محفوظ طیارہ استعمال کرنے پر بھی بین الاقوامی میڈیا میں مختلف نوعیت کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں، جسے اسی سیکیورٹی تھریٹ سے جوڑا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، تہران میں ایرانی حکومت یا پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ان سنگین امریکی میڈیا رپورٹس پر فوری طور پر کوئی سرکاری یا تردیدی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران گزشتہ کئی برسوں سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قدس فورس کے سابق سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا اصل ماسٹر مائنڈ اور ذمہ دار قرار دیتا آیا ہے۔ جنوری 2020 میں ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران بغداد ایئرپورٹ کے باہر امریکی ڈرون حملے میں جنرل قاسم سلیمانی مارے گئے تھے، جس کے بعد سے ایرانی عسکری قیادت بارہا عالمی سطح پر اس کا ہولناک بدلہ اور انتقام لینے کا اعلانیہ عزم ظاہر کرتی رہی ہے۔ خود صدر ٹرمپ نے بھی گزشتہ بدھ کے روز اپنے صدارتی طیارے ‘ایئر فورس ون’ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ کئی عالمی دشمنوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “وہ امریکہ کے رہنما، یعنی مجھے، ہر صورت نشانہ بنانا چاہتے ہیں اور میں نے خود دیکھا ہے کہ میں ان کی ہر ٹارگٹ لسٹ میں سب سے اوپر موجود ہوں”۔ تاحال امریکی محکمہ دفاع یا وائٹ ہاؤس نے اسرائیلی انٹیلی جنس کی ان رپورٹس کی باضابطہ اور آن ریکارڈ تصدیق نہیں کی ہے، جبکہ بین الاقوامی آزاد ذرائع سے بھی ان سنسنی خیز دعوؤں کی حتمی تصدیق ہونا باقی ہے۔
