US President Donald Trump speaking angrily to reporters inside the Air Force One airplane.

ایران کے ہر وار کا جواب 20 گنا زیادہ طاقت سے دیں گے؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو نئی اور ہولناک دھمکی!

واشنگٹن (ویب ڈیسک) 9 جولائی 2026

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگی جنون اور براہ راست فضائی و بحری معرکوں کے بیچ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو اب تک کی سب سے سخت اور سنگین ترین انتباہی دھمکی دے دی ہے۔ اپنے صدارتی طیارے ‘ایئر فورس ون’ میں سوار بین الاقوامی میڈیا کے صحافیوں سے انتہائی جارحانہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اگر اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکا، اس کی افواج یا خطے میں اس کے اسٹریٹجک مفادات پر کسی بھی قسم کا اگلا حملہ کیا، تو واشنگٹن اس کے جواب میں 20 گنا زیادہ عسکری طاقت اور تباہ کن ہتھیاروں سے ہولناک کارروائی کرے گا۔ امریکی صدر نے سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ امریکی پینٹاگون اور سینٹکام ایران کے خلاف جاری فوجی محاذ پر پہلے ہی بڑی عسکری کامیابی حاصل کر چکے ہیں اور تہران کو بیک فٹ پر دھکیل دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پے در پے امریکی حملوں اور سخت اقتصادی پابندیوں کے باعث ایران کے پاس اب دفاع اور جنگ کے لیے بہت کم وسائل بچے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اب امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کا نیا معاہدہ کرنے کے لیے شدید بے چین اور مجبور ہو چکا ہے، تاہم مجھے ذاتی طور پر یقین نہیں کہ وہ مستقبل میں کسی معاہدے کی پاسداری کرے گا۔

امریکی صدر کے اس کڑے بیان کے دوران جب ایک صحافی نے ان سے چبھتا ہوا سوال کیا کہ “اگر ایران واقعی اندرونی طور پر کمزور ہو چکا ہے اور امریکا کے ساتھ نیا سفارتی معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تو پھر اس نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کو کیوں نشانہ بنایا؟” اس کے جواب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روایتی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ “اگر آپ مجھ سے سچ پوچھیں تو ایرانی قیادت اور ان کا نظام اس وقت ذہنی طور پر کچھ حد تک غیر متوازن ہو چکا ہے، ان کے ملک کے حالات ان کے اپنے قابو سے باہر دکھائی دے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ سفارتی ڈیڈ لاک ختم کر کے معاہدہ ضرور کرنا چاہتے ہیں۔” ٹرمپ نے امریکی فضائیہ کی حالیہ کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے فخریہ انداز میں کہا کہ ہم نے ایران کی ساحلی تنصیبات، ریڈارز اور میزائل سسٹم کو ہدف بنا کر انہیں انتہائی سخت اور ناقابلِ تلافی جواب دیا ہے، اور اب ہماری پالیسی بالکل واضح ہے کہ ان کے ہر ایک حملے کا بدلہ بیس گنا زیادہ طاقتور فوجی کارروائی سے چکایا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے آخر میں جب امریکی صدر سے واشنگٹن کے اگلے ممکنہ لائحہ عمل کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا امریکا اب ایران کے ساتھ کسی مکمل اور باقاعدہ روایتی فوجی تنازع (Full-Scale War) یا زمینی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے؟ تو صدر ٹرمپ نے اپنے پتے چھپاتے ہوئے جواب دیا کہ “میں اس وقت اس بارے میں میڈیا کے سامنے کوئی حتمی بات نہیں کہہ سکتا، ہمارے پاس ایران پر فتح حاصل کرنے کے کئی متبادل راستے موجود ہیں لیکن عسکری اور ٹیکنالوجیکل اعتبار سے ہم نے ایران کو مفلوج کر کے پہلے ہی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں”۔ عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے “20 گنا زیادہ طاقت” کے استعمال کی کھلی دھمکی مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑے ایٹمی یا غیر روایتی ہتھیاروں کے استعمال کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے، جس نے خلیجی ممالک اور عالمی منڈیوں میں شدید تشویش اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں