Air defense systems firing interceptor missiles into the sky over Kuwait during a military conflict.

مشرقِ وسطیٰ میں کھلی جنگ؛ امریکی حملوں کے جواب میں ایران کی بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر میزائل بومبارڈمنٹ، قطر میں ہائی الرٹ!

تہران/کویت سٹی (ویب ڈیسک) 9 جولائی 2026

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب تمام حدیں پار کر کے ایک ہولناک علاقائی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایرانی سرزمین پر کیے گئے حالیہ بڑے پیمانے کے فضائی حملوں کا انتہائی سخت اور کرشماتی جواب دیتے ہوئے ایران نے خلیجی ممالک کویت اور بحرین میں قائم اہم امریکی فوجی اڈوں کو درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی حالیہ جارحیت کا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ فضائی کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین بین الاقوامی مال بردار بحری جہازوں پر کیے گئے ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے تاکہ اس اہم ترین آبی گزرگاہ میں عالمی جہاز رانی کی آزادی کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس امریکی دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فورسز کے مراکز پر میزائلوں کی برسات کر دی، جس سے پورے خلیج فارس میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔

اس اچانک اور بڑے فضائی حملے کے بعد کویت کی وزارتِ دفاع کی جانب سے ہنگامی بیان جاری کیا گیا ہے، جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ کویتی فضائی حدود میں داخل ہونے والے متعدد ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے ان کا ملٹری ایئر ڈیفنس سسٹم (فضائی دفاعی نظام) ہائی الرٹ پر فعال ہے اور جوابی کارروائی کر رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان اس براہ راست اور خونی تصادم کے بعد پورے خطے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جس کے بعد پڑوسی ملک قطر نے بھی اپنی قومی سلامتی اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر “ہائی سیکیورٹی الرٹ” جاری کر دیا ہے۔ قطر کی مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں کو کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال یا فضائی حدود کی خلاف ورزی سے نمٹنے کے لیے جنگی پوزیشن پر لایا جا چکا ہے، کیونکہ خطے کے تمام ممالک اس وقت شدید عسکری دباؤ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سنگین صورتحال پر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر ایک انتہائی سخت اور دھماکہ خیز پوسٹ شیئر کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح الفاظ میں لکھا کہ “یہ ایران کی طرف سے بین الاقوامی بحری جہازوں پر کی گئی بمباری کا وہ بدلہ ہے جو ہم نے ان کے ساحلی اڈوں کو تباہ کر کے لیا ہے۔ اگر ایران نے دوبارہ ایسی کوئی حماقت کی یا ہمارے اڈوں پر حملے جاری رکھے، تو اگلا معاملہ اس سے کہیں زیادہ خراب اور تباہ کن ہو جائے گا جس کا ایران تصور بھی نہیں کر سکتا۔” دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، خلیج میں امریکی اڈوں پر ایران کی یہ براہ راست بمباری اور صدر ٹرمپ کی اوپن وارننگ یہ ظاہر کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسی ہمہ گیر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے جو کسی بھی وقت تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں