Devastated buildings and temporary relief camps set up in the earthquake-affected northern coast of Venezuela.

وینزویلا میں ہولناک زلزلہ؛ ہلاکتیں 3 ہزار 800 سے تجاوز کر گئیں، 16 ہزار سے زائد زخمی، وبائی امراض کا بڑا خطرہ!

کاراکاس (ویب ڈیسک) 10 جولائی 2026

جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں گزشتہ ماہ آنے والے دو یکے بعد دیگرے تباہ کن اور قیامت خیز زلزلوں کے بعد صورتِ حال منٹوں میں بدترین انسانی المیے میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں ملبے سے مزید لاشیں نکلنے کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 3,889 تک پہنچ گئی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، ملکی پارلیمان (قومی اسمبلی) کے صدر جارج روڈریگز نے لرزہ خیز اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ان زلزلوں کے نتیجے میں اب تک ریکارڈ 16,740 افراد شدید زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 17,907 سے زائد شہری اپنے گھر بار تباہ ہونے کے باعث سڑکوں پر آ گئے ہیں جنہیں ہنگامی طور پر مختلف عارضی پناہ گاہوں اور خیمہ بستیوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس ہولناک جانی و مالی تباہی کے بعد اب عالمی اور علاقائی صحت کے اداروں نے متاثرہ علاقوں میں لاشیں گلنے سڑنے اور پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کے باعث ہولناک وبائی امراض پھیلنے کے خطرے کی بڑی گھنٹی بجا دی ہے۔

پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن (PAHO) نے ایک ہنگامی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وینزویلا کے شمالی ساحلی خطوں میں، جہاں زلزلوں کا مرکز تھا اور سب سے زیادہ تباہی ہوئی، وہاں ہسپتالوں کی مسماری، صاف پانی کی قلت اور سیوریج کا نظام مکمل تباہ ہونے کی وجہ سے بیماریاں تیزی سے سر اٹھا رہی ہیں۔ ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جرباس باربوسا کے مطابق، آنے والے چند ہفتوں میں اصل چیلنج صرف ملبے تلے دبے یا زخمی افراد نہیں ہوں گے، بلکہ عارضی کیمپوں میں گنجائش سے زیادہ ہجوم، ناقص نکاسیٔ آب اور حفاظتی ٹیکوں (ویکسینز) تک رسائی نہ ہونا لاکھوں زندگیوں کو خطرے میں ڈال دے گا۔ اس وقت وبائی امراض کے ماہرین متاثرہ علاقوں میں پھیپھڑوں اور سانس کے شدید انفیکشن، معدے کی بیماریوں اور ہیضے (اسہال) کی نگرانی کر رہے ہیں، اور اس وباء کو روکنے کے لیے وینزویلا کی وزارتِ صحت کے ساتھ مل کر ہنگامی طور پر میڈیکل کیمپس قائم کیے جا رہے ہیں۔

اس دوران عالمی برادری کو جھنجھوڑتے ہوئے اقوامِ متحدہ (UN) نے وینزویلا کے زلزلہ زدگان کی فوری بقا اور امداد کے لیے 30 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم کی ہنگامی اپیل جاری کی ہے، تاکہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 13 لاکھ پسماندہ افراد تک فوری طور پر پینے کا صاف پانی، ادویات، اور خشک راشن پہنچایا جا سکے۔ اقوامِ متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے صورتِ حال کی سنگینی بتاتے ہوئے کہا کہ زلزلے کے ابتدائی دنوں میں مریض صرف زخموں کی پٹی کروانے آ رہے تھے، لیکن اب دل کے مریض، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسی دائمی بیماریوں میں مبتلا بوڑھے اور بچے ادویات ختم ہونے کے باعث دم توڑ رہے ہیں۔ شمالی ریاست لا گوائیرا کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ‘کاتیا لا مار’ میں فیلڈ ہاسپٹل چلانے والے ڈاکٹروں نے تصدیق کی ہے کہ کیمپوں میں بدترین صفائی کی وجہ سے بچوں میں جلدی امراض اور اسہال کی بیماری وباء کی طرح پھیل رہی ہے، جسے کنٹرول کرنے کے لیے بین الاقوامی فلاحی ادارے اور مقامی این جی اوز دن رات ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں