کراچی (ویب ڈیسک) — 15 جولائی 2026
کراچی کے قدیم اور گنجان آباد علاقے لیاری میں دہشت گردی کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان جماعت اسلامی کی ایک زیرِ تعمیر عمارت پر دستی بم (کریکر) پھینک کر فرار ہو گئے۔ یہ حملہ لیاری کے علاقے پھول پتی لین، جمعہ مسجد کے قریب ہوا، جہاں ایک زوردار دھماکے کے ساتھ کریکر پھٹ گیا۔ دھماکے کی شدت اتنی تیز تھی کہ اس کے چھرے لگنے سے وہاں موجود جماعت اسلامی کے تین سرگرم کارکنان شدید زخمی ہو گئے، جبکہ اچانک ہونے والے اس دھماکے سے پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، رینجرز اور ایدھی فاؤنڈیشن کے رضا کار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے۔ امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو ملبے اور جائے حادثہ سے نکال کر فوری طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹرز ان کا علاج کر رہے ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کی شناخت 48 سالہ عبدالباقی، 50 سالہ حسین اور 32 سالہ غلام مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ پولیس نے سیکیورٹی کے پیشِ نظر پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سیل کر دیا ہے، اور بارود کی نوعیت کا پتہ لگانے کے لیے کرائم سین یونٹ اور بم ڈسپوزل اسکواڈ (BDS) کو طلب کر کے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے تصدیق کی کہ جس زیرِ تعمیر عمارت کو نشانہ بنایا گیا وہ جماعت اسلامی کی ملکیت ہے، جہاں ان کا دفتر قائم کیا جا رہا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار ایک ملزم نے عمارت پر کریکر پھینکا اور فرار ہو گیا۔ دوسری جانب امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے لیاری دفتر پر ہونے والے اس بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کا امن خراب کرنے والے عناصر کو فوری گرفتار کر کے عبرت ناک سزا دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے حملوں سے جماعت اسلامی کے کارکنوں کو خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔
