پاکستان کی سیاست میں اقتدار کا سفر کبھی سیدھا نہیں رہا۔ سیاسی جماعتیں کبھی حکومت میں آتی ہیں، کبھی اپوزیشن میں بیٹھتی ہیں اور کبھی ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں کہ آنے والے دنوں کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف بھی آج اسی سیاسی کشمکش کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا تحریکِ انصاف ایک بار پھر برسرِ اقتدار آ سکے گی؟

اس سوال کا جواب صرف سیاسی نعروں، جلسوں یا سوشل میڈیا کی مقبولیت سے نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے ملکی سیاسی حالات، انتخابی عمل، پارٹی کی تنظیم، قیادت، عدالتی معاملات، عوامی حمایت اور دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ تعلقات سمیت کئی عوامل کو دیکھنا ہوگا۔

تحریکِ انصاف اس وقت وفاق میں حکومت کا حصہ نہیں، تاہم خیبر پختونخوا میں اس کی حکومت موجود ہے۔ دوسری جانب پارٹی کے بانی عمران خان بدستور جیل میں ہیں اور ان کی رہائی کا معاملہ تحریکِ انصاف کی سیاست کا مرکزی موضوع بنا ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کیا، جسے بعد میں 4 اکتوبر تک مؤخر کیا گیا۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی ابھی برقرار ہے۔ تاہم 2 اکتوبر 2026 کو پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی بھی سامنے آئی ہے۔ مذاکرات میں عمران خان سے ملاقات اور ان کے معاملات سمیت مختلف مطالبات زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔

تحریکِ انصاف کے لیے سب سے اہم سوال پارٹی کی سیاسی حکمتِ عملی کا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں پارٹی کے اندر اختلافات اور فیصلہ سازی کے حوالے سے مختلف خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ خود پی ٹی آئی کے رہنما ان اختلافات کو معمول کی سیاسی رائے کا اختلاف قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ بعض رپورٹس میں پارٹی کے اندر مختلف گروہوں اور حکمتِ عملی پر اختلافات کی نشاندہی کی گئی۔

دوسری طرف پی ٹی آئی کے پاس ایک بڑی سیاسی حقیقت موجود ہے: اس کا ووٹر بیس۔ پارٹی کی مقبولیت کا اصل امتحان کسی جلسے یا سوشل میڈیا مہم کے بجائے آزاد، شفاف اور قابلِ اعتماد انتخابی عمل میں ہوگا۔ اگر مستقبل میں انتخابات ہوتے ہیں تو پی ٹی آئی کو اپنی تنظیم، امیدواروں، انتخابی مہم اور پارلیمانی حکمتِ عملی کے ذریعے عوامی حمایت کو ووٹ میں تبدیل کرنا ہوگا۔

یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ملک میں سیاسی مفاہمت کس حد تک آگے بڑھتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا راستہ کھلنا ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن مذاکرات کا نتیجہ ابھی واضح نہیں۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال بھی وفاق اور پی ٹی آئی کے تعلقات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے اقدامات پر غور کرنے کی بات بھی سامنے آ چکی ہے، جبکہ پی ٹی آئی اس کی مخالفت کر رہی ہے۔

آخرکار تحریکِ انصاف دوبارہ برسرِ اقتدار آئے گی یا نہیں، اس کا فیصلہ کسی ایک فرد، جماعت یا موجودہ سیاسی ماحول سے نہیں بلکہ آئینی و انتخابی عمل، عوامی ووٹ اور آنے والے سیاسی فیصلوں سے ہوگا۔ پاکستانی سیاست میں حالات تیزی سے تبدیل ہوتے رہے ہیں، اس لیے آج کی صورتحال کو مستقبل کا حتمی نقشہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ تحریکِ انصاف پاکستان کی سیاست میں ایک اہم قوت ہے اور اس کی سیاسی سمت آنے والے عرصے میں ملکی سیاست پر اثر انداز ہوتی رہے گی۔ اصل فیصلہ بہرحال عوام کے ووٹ اور آئینی طریقۂ کار کے ذریعے ہی سامنے آئے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں