
زبان کسی بھی قوم کی پہچان، اس کی تہذیب اور اس کی تاریخ کا آئینہ دار ہوتی ہے۔ ایک وقت تھا جب الفاظ صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں بلکہ جذبات، احترام اور شخصیت کی عکاسی ہوا کرتے تھے۔ لیکن آج کے ڈیجیٹل اور تیز رفتار دور میں ہماری مادری زبان اردو ایک نئی اور عجیب تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ خالص اردو اب کم ہوتی جا رہی ہے اور اس کی جگہ ایک نئی ملی جلی زبان نے لے لی ہے جسے ہم “ہنگلش” یا “اردش” کہتے ہیں۔

یہ رجحان صرف بول چال تک محدود نہیں بلکہ ہماری تحریروں، سوشل میڈیا پوسٹس اور روزمرہ زندگی میں بھی واضح نظر آتا ہے۔ اب ہر دوسرے جملے میں انگریزی الفاظ کا استعمال ایک فیشن بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی ترقی کے نام پر اپنی زبان کی اصل خوبصورتی کھو رہے ہیں؟

بدلتا ہوا معاشرہ اور انگریزی کا بڑھتا اثر
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انگریزی آج دنیا کی سب سے اہم زبان بن چکی ہے۔ تعلیم، کاروبار اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے انگریزی سیکھنا ضروری ہے۔ لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ہم اسے ضرورت کے بجائے ایک “اسٹیٹس سمبل” بنا لیتے ہیں۔
آج ہمارے معاشرے میں انگریزی بولنے والے کو زیادہ مہذب اور تعلیم یافتہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ اردو بولنے والے کو اکثر کم تر سمجھا جاتا ہے۔ یہی سوچ ہماری نئی نسل میں احساسِ کمتری پیدا کر رہی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی مادری زبان سے دور ہوتی جا رہی ہے۔

اردو کی اصل خوبصورتی کہاں کھو رہی ہے؟
اردو ایک ایسی زبان ہے جس میں محبت، احترام اور جذبات کی گہرائی بے مثال ہے۔ “خدا حافظ”، “مہربانی”، “تسلی رکھیں” جیسے الفاظ صرف الفاظ نہیں بلکہ احساسات کا اظہار ہیں۔ لیکن جب ان کی جگہ “بائے”، “پلیز” اور “ریلیکس” جیسے الفاظ لے لیتے ہیں تو وہ جذباتی گہرائی ختم ہو جاتی ہے۔
آج کی نوجوان نسل ایک ایسی زبان استعمال کر رہی ہے جو نہ مکمل اردو ہے اور نہ مکمل انگریزی۔ ہم “سوچنے” کے بجائے “تھنک” کرتے ہیں، “بات” کرنے کے بجائے “کمیونیکیٹ” کرتے ہیں اور “معذرت” کے بجائے صرف “سوری” کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس ملاپ نے نہ صرف زبان کی چاشنی کو متاثر کیا ہے بلکہ ہماری ادبی وراثت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
�
سوشل میڈیا اور رومن اردو کا بڑھتا رجحان
ڈیجیٹل دور نے زبان کے اس بدلاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر رومن اردو کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ لوگ اردو بولتے ہیں لیکن لکھتے انگریزی حروف میں ہیں۔
اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ نئی نسل اردو رسم الخط سے دور ہو رہی ہے۔ جب ہم کسی زبان کو لکھنا چھوڑ دیتے ہیں تو آہستہ آہستہ اس کی پہچان اور خوبصورتی بھی ختم ہونے لگتی ہے۔

کیا یہ ترقی ہے یا زوال؟
ماہرین کے مطابق زبان کا بدلنا ایک فطری عمل ہے۔ ہر زبان وقت کے ساتھ دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپناتی ہے۔ لیکن یہ تبدیلی تب تک مثبت ہوتی ہے جب تک زبان کی بنیاد برقرار رہے۔
اگر کسی زبان کے اپنے الفاظ ختم ہونے لگیں اور اس کی جگہ دوسری زبان لے لے تو یہ ارتقا نہیں بلکہ زوال ہوتا ہے۔ اردو کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انگریزی سیکھنا غلط نہیں، بلکہ وقت کی ضرورت ہے۔ لیکن اپنی مادری زبان کو نظر انداز کرنا ایک بڑی غلطی ہے۔
گھروں میں بچوں سے اردو میں بات کریں تاکہ ان کا اپنی زبان سے تعلق مضبوط ہو۔ انہیں اردو ادب، کہانیوں اور شاعری کی طرف راغب کریں تاکہ وہ اپنی زبان کی خوبصورتی کو سمجھ سکیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی زبان پر فخر کرنا سیکھنا ہوگا۔ اگر ہم خود اپنی زبان کو اہمیت نہیں دیں گے تو کوئی اور بھی نہیں دے گا۔
آخری بات
مادری زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ہماری شناخت، ثقافت اور تاریخ کا حصہ ہوتی ہے۔ اگر ہم نے اپنی زبان کی مٹھاس کھو دی تو ہم اپنی پہچان بھی کھو دیں گے۔
انگریزی کو سیکھیں، ضرور سیکھیں، لیکن اردو کو نہ چھوڑیں۔ کیونکہ جب زبان زندہ رہتی ہے تو تہذیب بھی زندہ رہتی ہے۔
