اگر سچائی اور احتساب ضروری ہے تو پھر اس کا آغاز سندھ سے کیوں نہ ہو؟

بلاول بھٹو زرداری کی جماعت گزشتہ کئی دہائیوں سے سندھ کی سیاست میں ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں جب وہ ماضی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کی بات کرتے ہیں تو سندھ کے عوام کے ذہن میں بھی کئی سوالات اٹھنا فطری ہیں۔ آخر سندھ کے ساتھ گزشتہ کئی دہائیوں میں کیا ہوا؟ یہ سوال بھی تو پوچھا جانا چاہیے کہ سندھ کے شہروں میں بنیادی سہولیات کی حالت اتنی خراب کیوں ہے۔ کتنے معصوم بچے کھلے گٹروں میں گر کر جان سے گئے؟ کتنے شہری آوارہ کتوں کے حملوں کا شکار ہوئے؟ کتنے خاندان ایسے ہیں جنہوں نے سرکاری اداروں کی غفلت کے باعث اپنے پیاروں کو کھویا؟ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، انسانوں کی زندگیاں ہیں۔ اور پھر کراچی ہے۔ جس شہر کو کبھی روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا، آج وہ صفائی، پانی، ٹوٹی سڑکوں، نکاسیٔ آب، کچرے اور بجلی جیسے مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ ہر حکومت آتی ہے، نئے دعوے کرتی ہے، نئے منصوبوں کا اعلان ہوتا ہے، مگر عام شہری کا سوال وہیں کھڑا رہتا ہے کہ *آخر کراچی کے بنیادی مسائل کب حل ہوں گے؟* اگر سچائی کے لیے کمیشن بن سکتا ہے تو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کراچی کو اس حالت تک پہنچانے میں کون سی پالیسیاں ذمہ دار رہیں، بلدیاتی اداروں کو کتنا اختیار ملا اور عوام کے لیے مختص وسائل کہاں خرچ ہوئے۔ سندھ کی سیاست کا ایک اور تلخ باب کراچی میں ہونے والا تشدد اور جرائم ہیں۔ مختلف ادوار میں سیاسی اور جرائم پیشہ گروہوں کے تعلقات، قتل و غارت اور مبینہ سیاسی سرپرستی کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ اگر واقعی ماضی کو کھول کر دیکھنا ہے تو پھر یہ سوال بھی پوچھا جانا چاہیے کہ اس دور میں طاقتور کون تھا، جرائم پیشہ عناصر کو کس طرح طاقت ملی اور ریاستی ادارے انہیں روکنے میں کیوں ناکام رہے۔ یہاں کسی ایک جماعت یا فرد کو پہلے سے مجرم قرار دینا مقصد نہیں۔ مقصد یہ ہے کہ اگر کمیشن بنے تو *تحقیق مکمل اور غیر جانب دار ہو۔* اسی طرح اندرون سندھ میں خواتین کے خلاف تشدد، کاروکاری اور قبائلی تنازعات کے واقعات بھی مسلسل توجہ چاہتے ہیں۔ کتنی خواتین ان رسموں کی بھینٹ چڑھیں؟ کتنے مقدمات میں متاثرہ خاندان انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹاتے رہے؟ اور کتنے بااثر لوگ اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے قانون سے بچتے رہے؟ یہ بھی سندھ کی حقیقت ہے اور اسے نظر انداز کرکے سچائی کی بات ادھوری رہتی ہے۔ پھر کچے کے علاقوں کا مسئلہ ہے۔ سالوں سے ڈاکوؤں کے گروہ شہریوں کو اغوا کرتے، تاوان طلب کرتے اور خوف پھیلاتے رہے ہیں۔ کارروائیاں بھی ہوتی ہیں، دعوے بھی کیے جاتے ہیں، مگر مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ تو پھر سوال سیدھا ہے:

*یہ گروہ اتنے طاقتور کیسے ہوئے؟ ان کے سہولت کار کون ہیں؟ انہیں وسائل اور پناہ کہاں سے ملتی رہی؟ اور کیا کبھی ان کے مبینہ سرپرستوں تک بھی پہنچنے کی کوشش کی گئی؟* اگر ریاست کسی علاقے میں برسوں تک اپنی رٹ مکمل طور پر قائم نہیں کر پاتی تو صرف ڈاکوؤں کو ذمہ دار قرار دینا کافی نہیں۔ اس پورے نظام کی تہہ تک جانا ہوگا جس نے انہیں پنپنے کا موقع دیا۔ کراچی کے بلدیاتی نظام پر بھی کئی سوالات موجود ہیں۔ انتخابات سے لے کر میئر کے انتخاب اور بلدیاتی اختیارات تک مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اعتراضات سامنے لاتی رہی ہیں۔ اگر کراچی کے شہری اپنے ووٹ سے نمائندے منتخب کرتے ہیں تو انہیں یہ حق بھی حاصل ہے کہ ان کے منتخب نمائندوں کو حقیقی اختیار ملے۔ اور پھر سندھ کے جاگیردارانہ اور وڈیرہ نظام کا سوال ہے۔ سندھ کی سیاست میں بااثر خاندانوں کی طاقت کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عام شہری اور طاقتور شخص کے لیے قانون ایک جیسا ہے؟ کیا پولیس اور انتظامیہ سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر کام کر سکتی ہیں؟ کیا ایک غریب شہری بھی اسی رفتار سے انصاف حاصل کر سکتا ہے جس رفتار سے ایک بااثر شخص اپنے مسائل حل کرواتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔ بلاول بھٹو زرداری صاحب، آزاد کشمیر میں سچائی اور مفاہمت کی بات ضرور ہونی چاہیے۔ متاثرین کو انصاف بھی ملنا چاہیے۔ لیکن اگر آپ واقعی ماضی کا حساب چاہتے ہیں تو پھر اس اصول کو سندھ تک بھی لانا ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں