
تاریخ جب بھی اقتدار اور موقع پرستی کے گٹھ جوڑ کی کوئی داستان لکھتی ہے، تو اس میں منافقت کے کچھ ایسے کردار ضرور دکھائی دیتے ہیں جو اپنے ہی وجود سے غداری کر کے اقتدار کے سنگھار سجاتے ہیں۔ آج نئی دہلی کے سیاسی افق پر ایک ایسا ہی کردار شدت سے بے نقاب ہو رہا ہے—وہ فلمی ہیروئن جو خود کو قوم کی ٹھیکیدار سمجھتی تھی، مگر آج پارلیمنٹ کی نشست پر بیٹھ کر ہندوستانی نسلِ نو (Gen-Z)، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کی پیٹھ میں خنجر گھونپ رہی ہے۔ جی ہاں، بی جے پی کی رُکنِ پارلیمنٹ کنگنا راناوت، جو آج فاشسٹ طاقتی ڈھانچے کا سب سے گھناؤنا اور منافق چہرہ بن چکی ہیں۔
ایک طرف ہندوستانی سڑکوں پر لاکھوں طلبہ اور نوجوان اپنے روشن مستقبل، تعلیمی تباہی اور پیپر لیک مافیا کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، تو دوسری طرف یہ محترمہ، جو خود کو قوم کی ’سنسکاری ناڑی‘ کہلاتی ہیں، ان نوجوانوں پر طنز کے تیر چلانے اور انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھنے میں مصروف ہیں۔ مگر فکری سوال یہ ہے کہ جو عورت خود اپنے ماضی کے تاریک گڑھوں سے فرار ہو کر آئی ہو—جس نے خود یہ اعتراف کیا ہو کہ وہ پندرہ سال کی عمر میں گھر سے بھاگ گئی تھی اور نشے کی لت میں مبتلا رہی—اسے کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ آج کے باشعور ہندوستانی نوجوانوں، طالبات اور نسلِ نو پر انگلی اٹھائے؟ وہ کنگنا جو کل تک فلمی دنیا میں ذاتی آزادی اور بغاوت کے جھنڈے گاڑتی تھی، آج بی جے پی کے اس ہندوتوا فریم ورک میں ڈھل چکی ہے جہاں اس کا واحد کام اقلیتوں کے خلاف زہر اگلنا، مظلوم خواتین کے حقوق پر تالے ڈالنا، اور نوجوانوں کی آواز کو کچلنا رہ گیا ہے۔
بی جے پی کی یہ سیاست شروع ہی سے اس تضاد پر کھڑی ہے جہاں وہ خواتین کو صرف ایک سیاسی پتے یا “ویمن کارڈ” کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ لیکن کنگنا راناوت کی صورت میں یہ کارڈ اب اس پارٹی کے لیے بھی ایک شرمندگی بن چکا ہے۔ ایک طرف تو یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہم خواتین کو بااختیار بنا رہے ہیں، اور دوسری طرف ان کی یہ نام نہاد ترجمان ہندوتوا کے تعصب میں اتنی اندھی ہو چکی ہیں کہ وہ ہندوستانی بیٹیوں اور نوجوان نسل کی اخلاقیات پر سوال اٹھاتی ہیں۔ جنسی امتیاز، اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے ریاستی مظالم، اور منی پور سے لے کر مختلف علاقوں تک خواتین کی تذلیل کے لرزہ خیز واقعات پر اس محترمہ کا منہ ہمیشہ بند رہتا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر کبھی ایک بار بھی مظلوم اقلیتوں، کچی بستیوں کی بے گھر ہونے والی ماؤں، یا سڑکوں پر لاٹھی کھانے والی طالبات کے حق میں ایک لفظ تک نہیں بولا۔ ان کا سارا وجود صرف نفرت کی ترویج اور حکومتی کاسہ لیسی کے گرد گھومتا ہے۔
اعداد و شمار اور تاریخی پس منظر اس بات کے گواہ ہیں کہ جب کوئی معاشرہ سیاسی مفادات کے لیے اخلاقیات کا سودا کر لیتا ہے، تو وہاں جمہوریت کے پتے بکھر جاتے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں خواتین کے خلاف جرائم کی شرح کس خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، مگر حکمران جماعت کی یہ ’خواتین کی چیمپئن‘ اس پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھتی ہے۔ ان کی پوری سیاست کا محور صرف یہ ہے کہ کس طرح اپنے آقاوں کو خوش کیا جائے، چاہے اس کے لیے ملک کے بچوں کو ‘اربن نکسل’ کہا جائے یا اپنی ہی دھرتی کی بیٹیوں کی تذلیل کی جائے۔
تاریخ کا یہ المیہ ہمیشہ سے تلخ رہا ہے کہ جب کوئی مظلوم طبقے سے اٹھ کر ظالموں کی صف میں جا بیٹھتا ہے، تو وہ اپنے ہی ہم جنسوں اور ہم وطنوں کے لیے سب سے بڑا عذاب بن جاتا ہے۔ کنگنا راناوت کی یہ منافقانہ سیاست اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ بی جے پی کا یہ ’ویمن کارڈ‘ دراصل ہندوستانی عورت کے وقار، حیا اور حقیقی بااختیاری (Women Empowerment) کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔
آج ہندوستان کی بیدار نسل اور باشعور خواتین یہ اچھی طرح سمجھ چکی ہیں کہ فاشزم کے یہ مہرے جتنی مرضی لفاظی کر لیں، اب ان کا یہ کھوکھلا فسانہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ نوجوان نسل سڑکوں پر اپنے حقوق کی جنگ خود لڑ رہی ہے، اور تاریخ کے اس موڑ پر کنگنا راناوت جیسے کرداروں کا انجام صرف اور صرف سیاسی گمنامی اور عوامی حقارت کے سوا کچھ نہیں ہوگا!
