
کراچی، جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے، آج کل اپنے باسیوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں شدید مشکلات کا شکار نظر آتا ہے۔ پانی اور بجلی کا بحران تو عرصے سے قائم تھا ہی، لیکن اب جو سب سے سنگین صورتِ حال شہرِ قائد کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے، وہ ہے طبیعیات اور صحت کے بنیادی اصولوں کے منافی، غیر معیاری اور بااثر مافیا کا من مانی قیمتوں پر فروخت ہونے والا دودھ۔ کراچی کا عام شہری آج اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں وہ نہ صرف اپنی جیب خالی کر رہا ہے، بلکہ اپنے بچوں کو دودھ کے نام پر کیمیکل اور ملاوٹ سے بھرا خاموش زہر پلانے پر بھی مجبور ہے۔

قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ، لیکن معیار صفر
آئے دن دودھ کی قیمتوں میں خودساختہ اضافہ اب ایک معمول بن چکا ہے۔ ڈائری فارمرز اور ہول سیلرز کی من مانیوں کے باعث خوردہ فروش (Retailers) عوامی سطح پر من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ اس وقت دودھ فی کلو 240 سے 250 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس خطیر رقم کے عوض جو دودھ عوام کی پہنچ میں آ رہا ہے، وہ خالص ہونا تو دور کی بات، انسانی صحت کے لیے شدید نقصان دہ اور بگاڑ کا باعث ہے۔

اگر ہم دودھ میں ہونے والی ملاوٹ کا جائزہ لیں، تو یہ اب محض پانی ملانے تک محدود نہیں رہی۔ منافع خور دودھ کو مصنوعی طور پر گاڑھا اور جھاگ دار بنانے کے لیے کیمیکل اور ڈیٹرجنٹ پاؤڈر کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دودھ کو لمبے عرصے تک خراب ہونے سے بچانے کے لیے یوریا اور فارمالین جیسی خطرناک اشیاء ملائی جاتی ہیں، جبکہ فارمالین وہی زہریلا کیمیکل ہے جو لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح دودھ کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے جس بلاک آئس (برف) کا استعمال کیا جاتا ہے، اس کی تیاری میں اکثر آلودہ اور نالوں کا ملا جلا پانی شامل ہوتا ہے۔

معصوم بچوں کی صحت اور مستقبل داؤ پر
دودھ ہر گھر کی بنیادی غذائی ضرورت ہے، خاص طور پر نوزائیدہ اور بڑھتے ہوئے بچوں کی نشوونما کا تمام تر دارومدار اسی غذائیت پر ہوتا ہے۔ کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں پیٹ کے شدید امراض، گردوں کی بیماریوں اور جگر کے انفیکشن میں مبتلا بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ رپورٹ ہو رہا ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق اس تشویشناک صورتِ حال کی ایک بڑی وجہ یہی کیمیکل اور کیمیاوی اجزاء سے تیار کردہ دودھ ہے۔
“ہم دودھ خریدنے کے لیے اپنی خون پسینے کی کمائی تو دے رہے ہیں، لیکن بدلے میں اپنے بچوں کے لیے بیماریاں خرید رہے ہیں۔” — کراچی کے ایک رہائشی کی دہائی

انتظامیہ کی خاموشی اور منافع خوروں کی من مانی
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سندھ فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ اس تمام صورتِ حال میں کہاں ہیں؟ قیمتوں اور معیار کو کنٹرول کرنے کے لیے وقت فوقت کچھ چھاپے مارے جاتے ہیں، چند دکانوں کو سیل کر کے جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں، لیکن یہ اقدامات محض عارضی اور دکھاوے تک محدود ثابت ہوتے ہیں۔ فارم سے لے کر دکان تک دودھ کے معیار اور قیمت کی مستقل نگرانی کے لیے کوئی پائیدار نظام فی الحال موجود نہیں ہے۔ نتیجتاً، چند ہی دنوں بعد مافیا دوبارہ فعال ہو جاتا ہے اور عوام کو اسی پرانے عذاب میں پیس دیا جاتا ہے۔

اب کیا کیا جائے؟ (حل کی طرف عملی قدم)
جب تک سرکاری سطح پر سخت اور مستقل قوانین نافذ نہیں ہوتے، عوام کو خود بھی کچھ حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کھلا دودھ مسلسل غیر معیاری اور کیمیکل سے آلودہ مل رہا ہو، تو مستند اور رجسٹرڈ برانڈز کے الٹرا ہائی ٹمپریچر (UHT) یا پاسچرائزڈ (Pasteurized) دودھ کو ترجیح دینی چاہیے، جو کم از کم معلوم معیار اور ٹیسٹنگ کے مراحل سے گزرتے ہیں۔

اس کے علاوہ سندھ فوڈ اتھارٹی کے پورٹل یا ہیلپ لائن پر اپنے علاقے کے ملاوٹ خوروں کی بلا جھجھک شکایت لازمی درج کروائیں۔ اپنے طور پر گھروں میں دودھ میں پانی یا نشاستہ (Starch) کی ملاوٹ کو جانچنے کے لیے مارکیٹ میں دستیاب سستی کٹس یا روایتی طریقوں، جیسے کہ دودھ کے قطرے کو کسی چکنی سطح پر ٹپکا کر اس کے بہاؤ اور نشان کو دیکھنے کا طریقہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

آخری بات
کراچی کے عوام کب تک اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہیں گے؟ مہنگائی کے اس دور میں معیاری اور خالص غذا کا حصول کوئی عیاشی نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ حکومتِ سندھ اور متعلقہ اداروں کو اب فوراً جاگنا ہوگا اور منافع خوروں کے خلاف ایسی مؤثر اور عبرتناک کارروائی کرنی ہوگی جو آئندہ کے لیے مثال بن سکے۔ اگر آج یہ قدم نہ اٹھایا گیا، تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک شدید بیمار اور لاغر معاشرے کی طرف دھکیل دیں گے۔
