بائیس بچے، بائیس سوال: سندھ میں گمشدہ معصوموں کا درد اور ریاستی ذمہ داری کا امتحان

از قلم : علیزہ عابد عارفین

بائیس بچے، بائیس سوال: سندھ میں گمشدہ معصوموں کا درد اور ریاستی ذمہ داری کا امتحان

کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس کے جشن، ترقیاتی منصوبوں یا بلند و بالا دعوؤں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب حالات خراب ہوں اور سب سے کمزور انسان کو تحفظ دینے کا وقت آئے۔ ایک مہذب ریاست کا سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو محفوظ رکھے، کیونکہ بچے صرف خاندانوں کا سرمایہ نہیں ہوتے بلکہ قوم کے مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں۔

سندھ میں بائیس لاپتہ بچے صرف پولیس ریکارڈ میں درج چند مقدمات نہیں ہیں۔ یہ بائیس ادھورے خواب ہیں، بائیس خاندانوں کی ٹوٹی ہوئی امیدیں ہیں، اور ریاست کے اس وعدے پر اٹھنے والے بائیس بڑے سوال ہیں کہ ہر شہری کی جان و عزت کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ان بچوں کے والدین کو اپنے پیاروں کی تلاش کے لیے وہ راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے جو کسی بھی ذمہ دار ریاست میں آخری نہیں بلکہ غیر ضروری بھی ہونا چاہیے۔ جب ایک ماں یا باپ اپنے بچے کی بازیابی کے لیے سڑکوں پر بیٹھنے پر مجبور ہو جائے تو یہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں رہتا، بلکہ پورے نظام انصاف اور حکمرانی کی ناکامی کا آئینہ بن جاتا ہے۔

بابرلو میں اٹھارہ دنوں سے جاری احتجاج کو محض ایک احتجاج سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے معاملات میں ریاستی اداروں کا ردعمل فوری، سنجیدہ اور غیر معمولی ہونا چاہیے تھا۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جہاں خاندان اپنے بچوں کے لیے دن رات جدوجہد کر رہے ہیں، وہاں ریاستی نظام اب بھی وضاحتوں، یقین دہانیوں اور روایتی بیانات تک محدود نظر آتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر ایک بچہ برسوں تک لاپتہ رہ سکتا ہے اور اس کا انجام معلوم نہیں ہو پاتا تو عام خاندان خود کو کتنا محفوظ محسوس کریں گے؟ اگر انصاف کے دروازے کھٹکھٹانے کے بجائے لوگوں کو شاہراہوں پر احتجاج کرنا پڑے تو پھر اداروں پر اعتماد کیسے قائم رہے گا؟

یہ معاملہ صرف جرائم کی تحقیقات تک محدود نہیں ہے۔ ہر لاپتہ بچہ ریاستی صلاحیت، قانون کی بالادستی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا امتحان ہے۔ ایک بچے کی گمشدگی ایک پورے خاندان کو ذہنی اذیت، خوف اور غیر یقینی کی زندگی میں دھکیل دیتی ہے۔ والدین ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نئی امید اور ایک نئے خوف کے درمیان زندہ رہتے ہیں۔

ریاست کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ جرم ہونے کے بعد کارروائی کرے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ ایسے حالات پیدا ہی نہ ہوں جہاں بچے محفوظ نہ رہ سکیں۔ مضبوط پولیس نظام، مؤثر تفتیش، جدید نگرانی کے طریقے، فوری کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ انسانی رویہ وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

بائیس بچوں کے معاملے میں صرف اعداد و شمار دیکھنا ایک بڑی ناانصافی ہوگی۔ ہر نمبر کے پیچھے ایک چہرہ ہے، ایک ماں کی دعا ہے، ایک باپ کی بے بسی ہے، اور ایک گھر کا سناٹا ہے۔

ریاستیں صرف قوانین سے مضبوط نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے سب سے کمزور شہریوں کے ساتھ کیے گئے سلوک سے پہچانی جاتی ہیں۔ اگر ایک بچہ محفوظ نہیں، تو تحفظ کے تمام دعوے سوال بن جاتے ہیں۔

اب وقت بیانات کا نہیں، عملی اقدامات کا ہے۔ ہر لاپتہ بچے کی بازیابی کے لیے مکمل ریاستی طاقت استعمال ہونی چاہیے، تحقیقات کو نتیجہ خیز بنایا جانا چاہیے، اور ایسے نظام قائم کیے جانے چاہئیں کہ کوئی اور خاندان اس اذیت سے نہ گزرے۔

کیونکہ ایک بچے کی تلاش دراصل ایک پورے معاشرے کے ضمیر کی تلاش ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں